سائنس ٹیکنالوجی

کولمبیا اور میک گل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دماغ میں خودکشی کے رجحان سے منسلک کیمیکل دریافت کر لیا

نیو یارک / مونٹریال: کولمبیا یونیورسٹی اور میک گل یونیورسٹی کے ماہرین نے دماغ میں ایک ایسا کیمیکل دریافت کیا ہے جو خودکشی کے خیالات اور ڈپریشن کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کیمیکل کا نام SGK1 ہے، جس کی زیادہ مقدار ان افراد میں پائی گئی ہے جنہیں بچپن میں صدمے یا دیگر نفسیاتی تکالیف کا سامنا رہا ہو۔

تحقیق اور اس کی اہمیت

محققین کے مطابق، SGK1 کی موجودگی ان افراد کے دماغی کیمیکل توازن کو متاثر کرتی ہے جو ڈپریشن اور خودکشی کی طرف مائل ہوتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جن کی زندگی میں ابتدائی دور میں مشکلات رہی ہوں۔
یہ دریافت ایک نئے قسم کے اینٹی ڈپریسنٹ کی تیاری کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جو خاص طور پر ان افراد کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوگی جنہیں روایتی اینٹی ڈپریسنٹس سے فائدہ نہیں ہوتا۔

تحقیق کا جریدے میں شائع ہونا

یہ تحقیق جریدے مالیکیولر سائیکاٹری میں شائع ہوئی ہے، جو اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کیوں روایتی اینٹی ڈپریسنٹس ان افراد کی مدد کرنے میں ناکام رہتے ہیں جنہوں نے بچپن میں بدسلوکی یا صدمے کا سامنا کیا ہو۔

اعداد و شمار اور ماہرین کی رائے

امریکہ میں ڈپریشن میں مبتلا تقریباً 60 فیصد بالغوں اور خودکشی کی کوشش کرنے والوں میں سے دو تہائی افراد نے بچپن میں کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی یا غفلت دیکھی ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے کلینکل نیورو بائیولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر کرسٹوف اینکر نے کہا کہ موجودہ اینٹی ڈپریسنٹس خاص طور پر ان افراد کے لیے کم مؤثر ہوتے ہیں جن کی زندگی میں بچپن کے صدمے شامل ہیں، جو کہ ڈپریشن کے مریضوں کی بڑی تعداد پر محیط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ

"ہمارا مطالعہ اس حوالے سے دلچسپ ہے کیونکہ یہ SGK1 کو روکنے والی نئی ادویات کے استعمال کے امکانات کو بڑھاتا ہے، جو پہلے ہی تیار کی جا رہی ہیں۔”

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button