صحت

ہر چار میں سے ایک امریکی ذہنی بیماری کا شکار، نوجوان سب سے زیادہ متاثر — نئی تحقیق کا انکشاف

نیویارک (ہیلتھ ڈیسک) — امریکا میں کی گئی ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق، ہر چار میں سے ایک امریکی بالغ فرد کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔ یہ چشم کشا اعداد و شمار یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (NIMH) کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، سالانہ بنیادوں پر تقریباً 25 فیصد امریکی ڈپریشن، اینگزائٹی، بائی پولر ڈس آرڈر یا دیگر ذہنی مسائل کا سامنا کرتے ہیں، جن میں سب سے عام ڈپریشن اور اینگزائٹی کے عارضے ہیں۔

نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر

تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 18 سے 25 سال کی عمر کے افراد میں ذہنی دباؤ کی شرح سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ ماہرین کے مطابق، سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال، اکیلا پن، مالی دباؤ اور نیند کی کمی اس عمر میں ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالنے والے اہم عوامل ہیں۔

علاج کی کمی حالات کو مزید بگاڑتی ہے

رپورٹ میں یہ تشویش ناک پہلو بھی شامل ہے کہ لاکھوں امریکی ہر سال مناسب علاج اور مشاورت نہ ملنے کی وجہ سے مزید پیچیدہ ذہنی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ:

"ذہنی صحت کو جسمانی صحت کے برابر اہمیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وقت پر تشخیص، پروفیشنل تھراپی، سماجی تعاون، اور خاندان کا مثبت کردار کسی بھی فرد کو بھرپور زندگی کی جانب واپس لا سکتا ہے۔”

تجویز کردہ اقدامات:

ذہنی بیماری کو سماجی بدنامی (stigma) سے پاک کیا جائے

اسکولوں اور جامعات میں مینٹل ہیلتھ ایجوکیشن متعارف کرائی جائے

ورک پلیسز پر ذہنی صحت کے لیے سپورٹ سسٹم مہیا کیے جائیں

نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹوکس پروگرام اور نیند کے بہتر شیڈول کو فروغ دیا جائے

یہ خبر ذہنی صحت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے، اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس بحران کی سنگینی کو بیان کرتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button