ڈائیٹ مشروبات بھی محفوظ نہیں؟ نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
لندن / برسلز — جو لوگ وزن کم کرنے یا شوگر سے بچنے کے لیے ڈائیٹ مشروبات کا سہارا لیتے ہیں، ان کے لیے حالیہ تحقیق ایک اہم انتباہ ہے۔
یورپی ماہرین صحت نے ڈائیٹ سافٹ ڈرنکس کے استعمال کو چربی دار جگر (Fatty Liver Disease) کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑ دیا ہے، جو کہ جگر کے سنگین امراض کی ایک بڑی وجہ ہے۔
تحقیقی نتائج کیا کہتے ہیں؟
یورپ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق، جس میں یوکے بایو بینک (UK Biobank) کے ڈیٹا کا بھی تجزیہ کیا گیا، یورپی گیسٹرو اینٹرولوجی کانفرنس میں پیش کی گئی۔
اس تحقیق کے مطابق:
روزانہ صرف ایک کین ڈائیٹ مشروب بھی چربی دار جگر کے خطرے میں 60 فیصد تک اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
چینی والے مشروبات اور مصنوعی مٹھاس پر مبنی مشروبات، دونوں ہی جگر کی صحت کے لیے مضر پائے گئے۔
طویل المدتی استعمال خاص طور پر خطرناک ثابت ہوا۔
خطرے کی وجہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق ڈائیٹ مشروبات میں استعمال ہونے والی مصنوعی مٹھاس (Artificial Sweeteners) آنتوں کے بیکٹیریا کے توازن کو خراب کر سکتی ہے، جس سے میٹابولک نظام متاثر ہوتا ہے۔
میٹھے ذائقے کے باعث مزید کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، جس سے افراد کیلوریز کہیں اور سے حاصل کرتے ہیں۔
مصنوعی مٹھاس انسولین کی حساسیت کم کر سکتی ہے، جو چربی کے جمع ہونے اور وزن بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈائیٹ مشروبات میں چینی نہیں ہوتی، لیکن ان کے طویل مدتی اثرات بھی کم خطرناک نہیں۔
ڈاکٹرز تجویز کرتے ہیں کہ پانی، قدرتی جوس یا دیگر قدرتی مشروبات کو ترجیح دی جائے۔
احتیاطی تدابیر:
روزمرہ میں ڈائیٹ ڈرنکس کے استعمال کو محدود کریں۔
قدرتی مشروبات یا لیموں پانی جیسے صحت بخش متبادل اپنائیں۔
اپنی خوراک اور میٹابولک صحت پر باقاعدہ نظر رکھیں۔





