سائنس ٹیکنالوجی

جنگلاتی آگ کے دھوئیں سے ہر سال امریکا میں 41,000 سے زائد اموات کا انکشاف

واشنگٹن: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنگلاتی آگ کے دھوئیں کی وجہ سے امریکہ میں ہر سال تقریباً 41,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو 2050 تک جنگلاتی آگ کا دھواں امریکیوں کے لیے سب سے مہلک ماحولیاتی خطرہ بن سکتا ہے۔

موتوں کی تعداد میں زبردست اضافہ متوقع

8 ستمبر کو شائع ہونے والے اس مطالعے میں کہا گیا ہے کہ وسط صدی تک جنگلاتی آگ کے دھوئیں سے ہونے والی سالانہ اموات میں 26,500 سے 30,000 تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ تعداد دیگر ماحولیاتی مسائل جیسے شدید گرمی، فصلوں کے نقصانات یا بڑھتے ہوئے توانائی کے اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔

مطالعہ کا طریقہ کار اور اہم نتائج

اس تحقیق میں سیٹلائٹ اسموک ٹریکنگ اور آب و ہوا کے جدید ماڈلز کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کر کے اموات کا تخمینہ لگایا گیا۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماحولیاتی سماجی علوم کے پروفیسر اور مطالعہ کے مصنف مارشل برک نے این بی سی نیوز کو بتایا:

"جنگلاتی آگ کا دھواں صحت کے لیے اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جتنا ہم پہلے سوچتے تھے۔”

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جنگلاتی آگ کے دھوئیں نے کلین ایئر ایکٹ کے تحت حاصل کی گئی کئی دہائیوں کی ہوا کی صفائی کی پیش رفت کو ختم کر دیا ہے، خاص طور پر مغربی ریاستوں اور نیویارک جیسے شہروں میں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button