تحریک بانگ اتاقی۔
تحریر۔۔۔۔۔۔عبداللہ طارق سہیل
دریاوں کی طغیانی کو قرار آنے لگا۔ جو تباہی ہو چکی، ہو چکی، اب مزید خطرہ ٹل گیا۔ کل 500 ارب کا نقصان اس سیلاب سے ہوا۔ تعمیرنو کا مرحلہ باقی ہے لیکن تعمیر نو کی کوئی روایت ہمارے ہاں نہیں ہے۔ یعنی روایت یہ ہے کہ تعمیر نو نہیں ہوگی۔ خیر، نقصان پورا کرنے کی سبیل تو ہونی چاہیے۔ وفاقی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات میں پانچ چھ فیصد کی کمی کر دے تو نقصان آسانی سے پورا ہو سکتا ہے لیکن کہاں، ہمارے ہاں قربانی عوام دیتے ہیں؟ حکمران اور ایلیٹ نہیں۔ عوام قربانی دینے کے قابل نہیں ہوتے لیکن ڈنڈے لاٹھی مار مار کر ان سے قربانی لے لی جاتی ہے، قومی مفاد کا سوال جو ہوا۔
فوج کا کردار یاد رہے گا۔ فوجی جوانوں نے لوگوں کی جانیں بچانے کا کام تعمیل حکم سے زیادہ انسانی قومی بلکہ مذہبی فرض سمجھ کر ادا کیا۔ پنجا ب میں سو سے ایک دو اوپر جانیں ضائع ہوئیں۔ جتنا بڑا سیلاب تھا، خدانخواستہ کئی ہزار جانوں کا نقصان ہونا تھا۔ پاک فوج نے گویا زبردست جنگ لڑ کر موت کو شکست دی۔
پنجاب حکومت کی تعریف بھی واجب ہے جس نے کچھ اور کیا ہو یا نہ کیا ہو، تصویریں بانٹنے کے عالمی ریکارڈ قائم کر دئیے۔ ساری دنیا میں آج تک، یعنی تصویر کی ایجاد کے بعد سے آج تک جتنی بھی تصویریں بانٹی گئی ہوں گی، پنجاب حکومت نے سیلاب کے دو اڑھائی ہفتوں میں اس سے زیادہ تصویریں بانٹ دیں۔ لوگ بہت خوش ہوئے اور سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس خوشی کو مرتے دم تک نہیں بھولیں گے۔
کے پی میں دہشت گردی کی صورتحال بے قابو ہی ہوتی چلی گئی ہے اور اس بار، سابق کئی بار کی طرح، پھر سنا ہے کہ مزید برداشت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید برداشت نہ کرنے کا مرحلہ تو کب کا گزر گیا۔ اب تو بڑھ رہا ہے کہ دہشت گرد ادھر کارروائی کرتے ہیں، اْدھر اس کی وڈیو بھارتی میڈیا کو پہنچ جاتی ہے ، کیسے پہنچ جاتی ہے؟۔ خود پہنچاتے ہیں۔ بلوچستان کے دہشت گردوں کو فتنۃ الہندوستان کا نام دیا گیا ہے، کے پی کے ٹی ٹی پی دہشت گرد ان سے بڑھ کر فتنہ ہیں۔ یہ فتنہ الخوارج بھی ہیں اور فتنہ الہندوستان بھی ہیں۔
ایک کارروائی میں 12 جوان، دوسری میں 7 شہید ہو گئے۔ نکتے کی کئی باتیں ہیں، ایک بات اہم نکتے کی یہ ہے کہ صوبے میں حکومت سہولت کاروں کی ہے اور جب تک ہے، بہتری کی کوشش کیسے کامیاب ہو گی؟۔ نکتے کی اس بات کو نکتے کا سوال سمجھ لیجئے۔
یکی بلکہ ’’نظر‘‘ آنے والی اطلاعات یہ ہیں کہ وزیر اعلیٰ گنڈا پور ا ب دہشت گردوں کے سہولت کار نہیں رہے۔ وہ ملک اور ریاست کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یہ ’’کرامت‘‘ کیسے ہوئی، اسے چھوڑئیے، کرامت ہو چکی؟ اسی کو غنیمت جانئیے لیکن پورے صوبے میں حکومت تو انہیں سہولت کاروں کی ہے جو فتنہ الخوارج بمعہ فتنہ الہندوستان کی نہ صرف مدد کرتے بلکہ ان کے حق میں تقریریں کرتے ، پروپیگنڈا پھیلاتے اور یہاں تک کہ مساجد کو بھی استعمال کرتے ہیں۔
گنڈا پور اپنی کایا کلپ کے بعد مرشد کے آگے ڈٹ گئے ہیں مرشد نے کہا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رکوا?، گنڈا پور نے انکار کر دیا۔ مرشد نے کہا، اڈیالہ کے باہر ایم پی ایز کو بھیجو۔ گنڈا پور نے کہا چلے جائیں، میں نے کہاں روکا ہے۔ مرشد نے کہا فوج کیخلاف ستمبر میں جلسہ کرو، گنڈا پور نے کہا ستمبر آنے تو دو۔
مرشد نے کہا، ستمبر تو آدھا بیت چکا، گنڈا پور نے کہا، باقی آدھا بھی بیت جائے گا، فکر نہ کریں۔
پارٹی کا غل غپاڑہ سیل گنڈا پور کو غدار کہہ رہا ہے۔ منہ سے جھاگ اڑا رہا ہے۔ کہہ رہا ہے گنڈاپور کو برطرف کرو۔ کون برطرف کرے، یہ نہیں بتا رہا۔
اس مہینے کی 20 تاریخ کو مرشد کا حکم ہے کہ سب کارکن چھتوں پر چڑھ کر اذان دیں۔ یہ بھی ایک قسم کی تحریک ہے۔ اسے بانگی تحریک کا نام دیا جا سکتا ہے۔
حقیقی آزادی کا سفر اب بانگوں پر ختم ہو رہا ہے :
وہ اٹھتا ہوا سا دھواں اول اول وہ بجھتی سی چنگاریاں آخر آخر!
بانگی تحریک میں کارکنوں کو آپشن دیا گیا ہے کہ اگر ان میں چھتوں پر آنے کی ہمت نہیں ہے تو صحن میں کھڑے ہو کر اذان دے لیں، خود اذان نہیں دے سکتے تو موبائل فون پر اذان لگا لیں۔
تحریک کی کامیابی کیلئے مزید آپشن دینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً صحن میں کھڑے ہو کر اذان دینے کی بھی ہمت نہیں ہے تو کمرے میں بند ہو کر اذان دے لیں۔ اس کی بھی ہمت نہیں ہے تو پلنگ کے نیچے گھس کر فرض ادا کر لیں۔ موبائل چلانے کی ہمت نہیں ہے تو دل ہی دل میں اذان دے لیں۔ بند کمرے یعنی اتاق میں بانگ۔ گویا اس تحریک کو تحریک بانگ اتاقی کہنا چاہیے۔
کسی مجلس میں تین چار آدمی اور دو عمرانیے تھے۔ اسی تحریک پر بات ہو رہی تھی۔ ایک آدمی نے عمرانیوں سے پوچھا تمہیں اذان آتی ہے، ایک نے کہا ، ہاں آتی ہے۔ آدمی نے کہا، سنا?۔ اس نے فوراً کہا، ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ آدمی لوگ ہنسنے لگے۔ عمرانیے نے ساتھی عمرانیے سے سرگوشی میں پوچھا ، یہ آدمی لوگ ہنس کیوں رہے ہیں، ساتھی عمرانیے نے جوابی سرگوشی میں کہا، تمہیں چپ رہنا چاہیے تھا۔ انہوں نے تم سے اذان سنانے کو کہا تھا، تم نے آیت الکرسی سنا دی۔
بنگلہ دیش میں طلبہ یونینوں کے الیکشن میں اسلامی جمعیت طلبہ جیت رہی ہے۔ پہلے ڈھاکہ یونیورسٹی میں اس کا پینل 70 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوا، اب جہانگیر پورہ یونیورسٹی میں بھی اس کا پینل جیت گیا یہ بھی ڈھاکے ہی کی یونیورسٹی ہے جسے یحییٰ خاں نے 1970 ء میں بنایا تھا۔ بھارتی میڈیا نے اس خبر کو بہت اہمیت دی ہے اور لکھا ہے کہ بھارت کو ایک نئے بنگلہ دڈیش کا سامنا ہے جو بنگلہ دیش کم اور پاکستان زیادہ ہے یعنی ایک نہیں، دو دو پاکستان اب بھارت کے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔






