سال 2025: عالمِ امن کی تباہی کا سال
تحریر۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
دنیا سال 2025 میں داخل تو ہوئی، مگر آنکھیں کھول کر نہیں یہ وہ بنیادی غلطی تھی جس نے اس پورے سال کو تاریخ کے خطرناک ترین ابواب میں لا کھڑا کیا یہ سال امید کے وعدوں کے ساتھ شروع ہوا تھا، مگر اختتام پر یہ سوال چھوڑ گیا کیا انسان نے واقعی اپنی بقا کا حق کھو دیا ہے؟
2025 وہ سال ہے جس میں عالمی نظام نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کر لیا کہ وہ انصاف نہیں، طاقت کے اصول پر چلتا ہے کہ انسانی جان کی قیمت مفادات کی فہرست میں کہیں آخر میں درج ہے اور یہ کہ امن اب ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ سیاسی سہولت بن چکا ہے۔ قیادت جب اختیار، بصیرت سے خالی ہو جائے
اس سال کا سب سے بڑا سانحہ کسی ایک جنگ، کسی ایک بحران یا کسی ایک خطے تک محدود نہیں تھا اصل سانحہ عالمی قیادت کی اخلاقی موت تھی وہ حکمران جن کے ہاتھ میں فیصلے تھے، ان کے سامنے حقائق موجود تھے، وارننگز تحریر ہو چکی تھیں، تاریخ چیخ چیخ کر مثالیں دے رہی تھی مگر اس کے باوجود، طاقت کے نشے میں مبتلا قیادت نے وہی راستے چنے جو پہلے بھی تباہی کی طرف جاتے رہے ہیں جہاں جنگ کو روکا جا سکتا تھا، وہاں اسے حکمتِ عملی کہا گیا۔ جہاں قتلِ عام کو روکا جا سکتا تھا، وہاں اسے ‘‘ناگزیر نقصان’’ قرار دیا گیا اور جہاں خاموشی جرم تھی، وہاں سفارتی مصلحت نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی۔ 2025 اس سوال کے ساتھ یاد رکھا جائے گا کہ جب تاریخ نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو عالمی قیادت نے دروازہ کیوں نہ کھولا؟
عالمی ادارے: قراردادوں کا قبرستان
اقوامِ عالم کے وہ ادارے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد اس وعدے پر قائم کیے گئے تھے کہ دنیا دوبارہ اس اندھیرے میں نہیں جائے گی ، 2025 میں اپنی ناکامی کی علامت بن کر رہ گئے قراردادیں پاس ہوئیں، مگر عمل نہ ہوا تحقیقی رپورٹس شائع ہوئیں، مگر ان پر مہرِ خاموشی ثبت کر دی گئی قانون موجود تھا، مگر صرف کمزوروں کے لیے ،طاقتور ریاستوں کے لیے قانون ایک مشورہ تھا اور کمزور اقوام کے لیے ایک زنجیر۔ یہ سال کھل کر بتا گیا کہ عالمی نظام اب انصاف کے تصور سے دستبردار ہو چکا ہے اور جب انصاف مر جائے، تو امن زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا۔
جنگیں: معمول بنتا ہوا جنون
2025 میں جنگ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں رہی،یہ معمول بن گئی ، خبروں میں بمباری معمول، مہاجرین اعداد، اور لاشیں پس منظر بن گئیں۔ انسانی المیہ اب بریکنگ نیوز نہیں رہا کیونکہ دنیا اس کی عادی ہو چکی ہے ۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں میڈیا، سیاست اور معیشت ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے سب نے مل کر جنگ کو قابلِ قبول بنا دیا۔ یہ سال تاریخ میں اس لیے خطرناک ہے کہ اس نے ضمیر کو بے حس کر دیا۔
معیشت : ترقی کے نام پر تشدد
عالمی معیشت نے 2025 میں اعداد و شمار کی زبان میں ترقی کے دعوے کیے،مگر انسان کی زبان میں یہ سال معاشی تشدد کا سال تھا چند ہزار افراد کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا، جبکہ کروڑوں انسان بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے چلے گئے۔ مہنگائی نے صرف قیمتیں نہیں بڑھائیں، بلکہ انسان کی عزتِ نفس کو روند ڈالا۔ ریاستیں عوام کی نہیں، منڈیوں کی محافظ بن گئیں اور معیشت کا مقصد انسان نہیں، منافع قرار پایا۔ یہ وہ سال تھا جس میں بھوک خاموش تھی،مگر قاتل۔
ٹیکنالوجی: ترقی یا کنٹرول؟
2025 میں ٹیکنالوجی نے انسان کی صلاحیتوں کو وسعت دی، مگر اس کی آزادی کو محدود کر دیا مصنوعی ذہانت نے فیصلے سنبھال لیے اور انسان خود ایک ڈیٹا پوائنٹ بن گیا۔ نگرانی، معلوماتی جنگ اور رائے سازی کے خفیہ ہتھیاروں نے جمہوریت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا سچ ایک رائے بن گیا اور جھوٹ ایک حکمتِ عملی۔ یہ سال ہمیں خبردار کرتا ہے کہ بغیر اخلاق کے ٹیکنالوجی، انسان کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار بن سکتی ہے۔
ماحول : زمین کا آخری نوٹس
اگر 2025 کو کسی ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہو گا زمین نے انتظار ختم کر دیا۔ سیلاب، آگ، قحط، اور شدید موسمی تبدیلیاں قدرتی آفات نہیں رہیں یہ انسانی فیصلوں کا ردِ عمل تھیں وعدے کیے گئے، مگر پورے نہ ہوئے۔ اہداف بنائے گئے، مگر ٹال دئیے گئے۔ یہ سال ثابت کر گیا کہ زمین کو دھوکا دیا جا سکتا ہے مگر نظرانداز نہیں۔
عوام: جاگتے ہوئے، مگر تنہا
2025 میں دنیا بھر کے عوام خاموش نہیں تھے احتجاج ہوئے، سوال اٹھے، آوازیں بلند ہوئیں مگر مسئلہ یہ تھا کہ عوام بیدار تھے اور نظام بند۔ یہ وہ خطرناک تضاد ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔
عالمی حکمرانوں کے نام آخری پیغام
2025 ایک انتباہ ہے، یہ کوئی عام سال نہیں۔ اگر آپ نے اس سال سے سبق نہ سیکھا تو آنے والے سال آپ کو موقع نہیں دیں گے وہ فیصلہ سنائیں گے۔
یہ وقت ہے:
• طاقت کو قانون کے تابع کرنے کا
• دولت کو انسانیت کے تابع کرنے کا
• سیاست کو اخلاق کے تابع کرنے کا






