کالمز

بجلی شعبے کی اصلاحات ، عوامی ریلیف ، صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔محمود خان
زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے ملکی معیشت کو مزید فروغ ملے گا،زرعی شعبے میں اصلاحات سے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اورپیداواری لاگت میں کمی آئے گی،زراعت کی ترقی کے لئے آئندہ بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ فارم میکنائزیشن کی ترویج کے لئے زرعی مشینری اور آلات پر ٹیکس بتدریج کم کیا جائے،زرعی اجناس کی سٹوریج کی صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے اقدامات تیز کئے جائیں ۔تاہم صوبوں کا زرعی شعبے کی ترقی کے لئے نئے منصوبے اور فنڈز کی فراہمی خوش آئند ہے،امید ہے کہ زرعی سکالرشپ پر چین بھیجے جانے والے افراد وطن واپسی پر زرعی شعبے کے فروغ کے لئے بطور انٹرپرینیور قابل قدر خدمات سر انجام دیں گے۔ زراعت کے شعبے میں ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ کسانوں اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو ہو گا،زراعت کی ترقی کے لئے آئندہ بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ زرعی شعبے میں اصلاحات بالخصوص زرعی پیداوار میں اضافے، زرعی انفراسٹرکچر اور کسانوں کی آسان زرعی قرضوں تک رسائی کے حوالے سے تجاویزبھی ہیں۔ نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ ایکشن پلان کسانوں کی آمدنی بڑھانے، پیداوار میں اضافے اور جامع اصلاحات پر مرکوز ہے۔ زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کر کے برآمدات سے کسانوں کی آمدنی بڑھائی جائے گی اور قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکے گا،قومی ٹیکنالوجی فنڈ کے منصوبے اگنائٹ کے تحت 129 زرعی سٹارٹ اپس شروع کئے جا چکے ہیں۔دوسری جانب وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا بجلی شعبے کی جاری اصلاحات پر کہنا ہے کہ بجلی شعبے کی اصلاحات سے عوامی ریلیف اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے،بجلی شعبے میں نقصان کرنے والی جینکوز کی نیلامی کے دوسرے اور تیسرے مرحلوں کو بھی جلد مکمل کیا جائے،جینکوز کی نیلامی کے عمل کو دیگر نجکاری کے پروگرامز کی طرح میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے،سمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے،وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ٹیوب ویلز کی سولرآئیزیشن کا عمل مکمل ہو چکا جس سے بلوچستان کے زرعی شعبے کی پیداور میں اضافہ ہوگا،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،ملک بھر میں الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے عمل کو تیز کیا جائے،بجلی کے ترسیل و ٹرانسمیشن نظام کی بہتری کیلئے مجوزہ منصوبوں پر کام جلد شروع کیا جائے،قابل تجدید توانائی کے ماحول دوست اور کم لاگت منصوبوں کو جلد مکمل کرکے عوام کو مزید سہولت دینے کیلئے اقدامات اولین ترجیح ہیں۔تاہم وزیرِ اعظم کی ہدایت پر فرسودہ اور نقصان میں چلنے والے جینکوز کی نیلامی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا جس سے قومی خزانے کو 9.05 بلین روپے کی آمدن ہوئی جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کو مکمل کرنے کیلئے اقدمات تیزی سے جاری ہیں۔ شفافیت کے عنصر کو یقینی بنانے کیلئے نیلامی کی کاروائی براہ راست نشر کی جاتی ہے، 36 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کے نرخوں کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں مجموعی طور ملکی خزانے کو 3.69 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی. ملکی صنعتوں کو ٹرانسمیشن لائن پر لا کر انہیں بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنایا جا رہا ہے جس سے صنعتی پیدوار، برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا. بجلی ٹرانسمیشن کمپنی NTDCL کو تحلیل کرکے انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی اور نیشنل گرڈ کمپنی تشکیل دی گئی ہیں اور انکو ان کی ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔ملک بھر میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کیلئے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل بھی تیزی جاری ہے، الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کی درخواستوں کو وصول کرنے کیلئے آن لائن پورٹل فعال ہے جس کے ذریعے 120 درخواستیں وصول کی جا چکیں جس میں سے 48 درخواستوں کو عبوری رجسٹریشن کی دستاویزات تفویض کی جاچکیں، اسی طرح پہلے سے موجود چارجنگ اسٹیشنز کی ریگیولرائیزیشن کا عمل بھی مکمل ہو چکا، بجلی شعبے کی بہتری کیلئے پاور پلاننگ اور مانیٹرنگ کمپنی PPMC کا قیام عمل میں لایا جاچکا، ملک کی بیشتر تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی بقرڈز کی تشکیل نو کی جاچکی جو کہ اب مکمل طور پر فعال ہیں۔ بجلی کی بچت کیلئے انرجی ایفیشنٹ پنکھوں کے فروغ کے حوالے سے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے تاکہ متوسط طبقے کے صارفین بجلی بچا کر بلوں میں کمی سے مستفید ہو سکیں، بجلی کی بچت کیلئے انرجی ایفیشنٹ عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی روڈ میپ تیار ہے اور صوبائی حکومتوں سے بھی اس پر عملدرآمد پر مشاورت مکمل ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button