بچوں میں ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں کا خطرہ دوگنا — نئی تحقیق میں انکشاف
واشنگٹن / لاہور (ہیلتھ ڈیسک) — بچوں میں ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون) اور دل کی بیماریوں کے درمیان ایک تشویشناک اور مضبوط تعلق سامنے آیا ہے، جس سے والدین، معالجین اور تعلیمی اداروں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ اہم تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں پیش کی گئی اور اسے معروف طبی جریدے JAMA (جاما) میں شائع کیا گیا ہے۔ تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ جن بچوں کی عمر صرف 7 سال تھی اور ان کا بلڈ پریشر عمر، جنس اور قد کے لحاظ سے بالائی 10 فیصد میں شمار ہوتا تھا، ان میں دل کی بیماری کا خطرہ 40% سے 50% زیادہ پایا گیا۔
نارمل رینج میں بھی خطرہ
ماہرین کے مطابق حتیٰ کہ اگر بلڈ پریشر "نارمل رینج” میں بھی ہو، تب بھی اگر اس میں ہلکا سا اضافہ ہو — یعنی سِسٹولک میں 13 فیصد اور ڈائیاسٹولک میں 18 فیصد اضافہ — تو یہ بھی دل کی بیماری کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
2.1 گنا زیادہ خطرہ
تحقیق میں شامل بچوں میں، جن کو ہائی بلڈ پریشر تھا، ان میں Major Adverse Cardiac Events (MACE) — جیسے دل کا دورہ، فالج، اسپتال میں داخلے کی نوبت، یا دل کی بیماری — کا خطرہ 2.1 گنا زیادہ دیکھا گیا۔ تاہم، دل کی بیماری سے اموات میں کوئی خاص فرق سامنے نہیں آیا۔
دل کی ساخت پر بھی اثرات
امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر دل کی دیواروں کے موٹے ہونے، شریانوں کی سختی اور دل کے اندرونی دباؤ جیسے شروعاتی منفی اثرات کا سبب بن سکتا ہے، جو آگے چل کر خطرناک دل کی بیماریوں میں بدل سکتے ہیں۔
مزید نتائج
ایک اور تحقیق نے بھی تصدیق کی کہ بچوں میں ایم اے سی ای (MACE) کا خطرہ تقریباً دوگنا پایا گیا۔ اس کے علاوہ دل کی ناکامی، گیسوں کی خرابی، اور دیگر قلبی مسائل کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
میٹا اینالیسس سے بھی تصدیق
ایک میٹا اینالیسس (کئی تحقیقی رپورٹس کا مجموعی تجزیہ) نے بھی یہی واضح کیا کہ بچوں اور نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کا تعلق بالغ افراد میں دل کی بیماری کے درمیانی و سنگین اثرات سے ہے۔
والدین اور اسکولز کے لیے پیغام
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دیں، ان کی خوراک میں نمک اور جنک فوڈ کی مقدار کم کریں اور سالانہ یا نیم سالانہ بلڈ پریشر چیک اپ کو معمول بنائیں۔ اسکولوں میں بھی بچوں کی صحت کی اسکریننگ ضروری ہے تاکہ خطرات کو ابتدا میں ہی روکا جا سکے۔






