مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال ادھیڑ عمری میں دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، تحقیق
اسلام آباد (ہیلتھ رپورٹر) — حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ادھیڑ عمری میں مصنوعی مٹھاس (Artificial Sweeteners) کا زیادہ استعمال دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، مصنوعی مٹھاس دماغ کے اُن اہم حصوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے جو یادداشت اور سیکھنے کے عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ مٹھاس دماغ میں ہلکی سوزش (inflammation) پیدا کر سکتی ہے، جو وقت کے ساتھ اعصابی خلیات (neurons) کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
آنتوں اور دماغ کا تعلق
ماہرین کے مطابق، مصنوعی مٹھاس آنتوں کے جراثیمی توازن (gut microbiome) کو متاثر کرتی ہے، جو نہ صرف ہاضمے بلکہ دماغی صحت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تبدیلیاں دماغ میں نیوروٹرانسمیٹرز کی پیداوار پر اثر ڈال سکتی ہیں، جو انسانی مزاج، نیند، اور سوچنے کی صلاحیت سے جڑے ہوتے ہیں۔
انسولین اور دماغی کارکردگی
کچھ مطالعات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس انسولین کے نظام میں خلل ڈال سکتی ہے۔ چونکہ دماغ کی توانائی کا اہم ذریعہ گلوکوز ہے، انسولین کے عدم توازن سے دماغی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً ادھیڑ عمر یا بزرگ افراد میں۔
کیا کرنا چاہیے؟
ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ مصنوعی مٹھاس کا روزانہ استعمال کم سے کم کیا جائے اور اس کی جگہ قدرتی متبادل اپنائے جائیں، جیسے:
شہد
کھجور کا شربت
اسٹیویا (Stevia) — ایک قدرتی اور کم کیلوری والا پودا
دماغی صحت کے لیے دیگر تجاویز
دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے ماہرین کی تجویز کردہ چند اہم عادات درج ذیل ہیں:
متوازن غذا کا استعمال
باقاعدہ جسمانی ورزش
دماغی مشقیں جیسے: مطالعہ، نئی زبان سیکھنا، پہیلیاں حل کرنا






