دماغی بڑھاپے کو ریورس کرنے والی حیران کن دریافت: سائنسدانوں نے نیا پروٹین FTL1 شناخت کر لیا
سان فرانسسکو (خصوصی رپورٹ) — یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے سائنسدانوں نے دماغی بڑھاپے کو پلٹنے (reverse) کی ایک حیران کن اور انقلابی دریافت کی ہے۔ ماہرین نے چوہوں پر کی گئی تحقیق میں FTL1 نامی ایک پروٹین کو شناخت کیا ہے جو عمر کے ساتھ دماغی تنزلی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، چوہوں کے دماغ کے اہم حصے ہپوکیمپس — جو یادداشت اور سیکھنے سے وابستہ ہے — میں FTL1 کی زیادہ مقدار پائی گئی۔ اس زیادتی سے نیورونز (دماغی خلیات) کے درمیان رابطے کمزور، خلیاتی نشوونما محدود اور یادداشت متاثر ہو رہی تھی۔
لیکن سب سے حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ جب سائنسدانوں نے FTL1 کی مقدار کو کم کیا، تو بوڑھے چوہوں کی دماغی کارکردگی میں زبردست بہتری دیکھی گئی۔ ان کے نیورونز زیادہ متحرک ہو گئے، رابطے بہتر ہو گئے اور یادداشت کے ٹیسٹ میں واضح کامیابی حاصل کی گئی۔
تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر سول ویلاڈا کے مطابق:
"یہ صرف بڑھاپے کو روکنے کی بات نہیں، بلکہ ہم نے عمر کے اثرات کو حقیقتاً ریورس کیا ہے۔ یہ ایک نوجوان دماغ کی واپسی کی امید ہے۔”
مزید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ FTL1 کی زیادہ مقدار خلیوں کے توانائی کے نظام (میٹابولزم) کو بھی سست کر دیتی ہے، جو مجموعی دماغی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔
اب سائنسدان اس پروٹین کو ہدف بنا کر ایسی تھراپیز تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو نہ صرف یادداشت کو بہتر بنا سکیں بلکہ عمر رسیدہ افراد میں دماغی صحت کو جوانی جیسا بنا سکیں۔
یہ تحقیق عمر رسیدگی سے جڑے دماغی مسائل جیسے الزائمر اور دیگر یادداشت کی بیماریوں کے علاج میں انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔






