مصنوعی مٹھاس کینسر کے علاج میں رکاوٹ بن سکتی ہے، سکرالوز پر حالیہ سائنسی تحقیق
لندن/نیویارک (سائنس ڈیسک)
حالیہ سائنسی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ بعض مصنوعی مٹھاس خصوصاً سکرالوز (Sucralose)، کینسر کے علاج، خصوصاً امیونوتھراپی میں ممکنہ طور پر مداخلت کر سکتی ہیں۔
مدافعتی نظام پر منفی اثرات
تحقیقات کے مطابق سکرالوز جیسی مصنوعی مٹھاسیں جسم کے مدافعتی نظام کے خلیات (T-cells) کی کارکردگی کو کمزور کر سکتی ہیں، جو کہ کینسر کے خلاف ردِعمل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
خصوصاً وہ مریض جو امیونوتھراپی لے رہے ہیں، ان میں مصنوعی مٹھاس کا استعمال کینسر کے خلاف جسم کی قدرتی مدافعتی کوششوں کو کم مؤثر بنا سکتا ہے۔
آنتوں کی صحت اور دواؤں کی کارکردگی میں رکاوٹ
مزید یہ کہ مصنوعی مٹھاس آنتوں کے جراثیمی توازن (Gut Microbiome) کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، اور چونکہ آنتوں کی صحت کا مدافعتی نظام سے گہرا تعلق ہوتا ہے، اس بگاڑ سے کینسر کی دواؤں کی افادیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
2023 میں شائع ہونے والے ایک اہم سائنسی مطالعے کے مطابق، سکرالوز کی زیادہ مقدار نہ صرف مدافعتی خلیات کو متاثر کرتی ہے بلکہ کینسر کے خلاف علاج کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔
کیا مریضوں کو مصنوعی مٹھاس سے پرہیز کرنا چاہیے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تمام مصنوعی مٹھاسیں ایک جیسی نہیں ہوتیں، تاہم بطور احتیاط، خاص طور پر کینسر کے مریضوں کو — جو امیونوتھراپی یا دیگر حساس علاج لے رہے ہیں — مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
ہر مریض کی صورتحال مختلف ہوتی ہے
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا اثر مریض کی صحت، دوا، مدافعتی نظام، اور خوراک کے انداز پر بھی منحصر ہوتا ہے، لہٰذا مکمل تشخیص اور ماہر معالج سے مشورہ لینا ضروری ہے۔





