صحت

الٹرا پروسیسڈ غذائیں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، نئی تحقیق کا انکشاف

اسلام آباد:
صحت مند زندگی کے خواہاں افراد کے لیے ایک نئی سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں — یعنی وہ خوراکیں جو کیمیائی پریزرویٹوز، ذائقہ بڑھانے والے ایڈیٹیوز اور دیگر مصنوعی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں — پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہیں۔

یہ نئی تحقیق معروف سائنسی جریدے ‘تھوریکس’ میں شائع ہوئی ہے، جس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ 2020 میں سامنے آنے والے پھیپھڑوں کے کینسر کے 22 لاکھ نئے کیسز اور 18 لاکھ اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک بھی ہو سکتا ہے۔

پس منظر:
اس سے قبل 2024 میں ‘بی ایم جی’ (BMJ) میں شائع ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ الٹرا پروسیسڈ خوراکیں 32 خطرناک بیماریوں سے تعلق رکھتی ہیں، جن میں:

دل کی بیماریاں

کینسر

ٹائپ 2 ذیابیطس

خراب ذہنی صحت

اور قبل از وقت موت شامل ہیں۔

تحقیق کے نتائج:
محققین کا کہنا ہے کہ اگر ان غذاؤں کی کھپت کو محدود کیا جائے تو نہ صرف پھیپھڑوں کے کینسر بلکہ کئی دیگر بیماریوں کی شرح میں بھی عالمی سطح پر واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔

ماہرین کی رائے:

ماہرین صحت عوام کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنی خوراک میں تازہ، قدرتی اور minimally processed غذا کو ترجیح دیں اور فاسٹ فوڈ، پیکڈ اسنیکس، میٹھے مشروبات اور فیکٹری میں تیار کردہ اشیاء سے پرہیز کریں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button