سائنس ٹیکنالوجی

دنیا کا نایاب ترین خون دریافت — ’’گوادا نیگیٹو‘‘، جو صرف ایک خاتون میں پایا گیا

پیرس:
فرانسیسی سائنس دانوں نے خون کا ایک بالکل نیا اور انتہائی نایاب بلڈ گروپ دریافت کر لیا ہے، جسے ’’گوادا نیگیٹو (Gwada Negative)‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دریافت طبی دنیا میں ایک سنسنی خیز پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ خون دنیا میں صرف ایک انسان کے جسم میں پایا گیا ہے۔

خاتون جس نے سائنس کی تاریخ بدل دی:
فرانس کے علاقے گواڈیلوپ میں مقیم ایک خاتون میں 2011ء کے دوران ایک سرجری کے وقت اس وقت تشویشناک صورتحال پیدا ہوئی جب:

اس کا جسم کسی بھی قسم کا خون — یہاں تک کہ بہن بھائیوں کا خون بھی قبول کرنے سے انکاری ہو گیا۔

ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے اس غیر معمولی ردِعمل پر تحقیق شروع کی، جو 14 سال تک جاری رہی۔

تحقیق کا حیرت انگیز نتیجہ:
تفصیلی جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا کہ:

خاتون کے 20 ہزار جینز میں سے ایک جین PIGZ میں ایک مخصوص تبدیلی (mutation) واقع ہوئی تھی۔

اسی تبدیلی کے باعث اس کے خون کے خلیے عام انسانوں سے مکمل مختلف بن گئے۔

یہی غیر معمولی تبدیلی دنیا کے 48ویں منفرد بلڈ گروپ "گوادا نیگیٹو” کی بنیاد بنی۔

طبی ماہرین کا ردعمل:
ماہرین کا کہنا ہے کہ:

"یہ دریافت خون کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور ریئر بلڈ گروپس کی شناخت میں ایک انقلابی قدم ہے۔”

اہمیت:
یہ دریافت مستقبل میں:

پیچیدہ بلڈ ٹرانسفیوژن کیسز کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

جینیاتی تبدیلیوں اور امیون سسٹم کی مطابقت پر تحقیق کے دروازے کھول سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button