سیلاب کے بعد پھر سو جائیں گے ، ایک برباد قوم کا نوحہ
تحریر۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
یہ سرزمین جسے کبھی دنیا کی زرخیز ترین وادیوں میں شمار کیا جاتا تھا، آج بار بار پانی میں ڈوبتی ہے اور ہر بار ہم آنکھیں موند کر پھر سو جاتے ہیں۔ ہر سیلاب کے بعد وعدے، دعوے اور تقریریں ہوتی ہیں، مگر جیسے ہی پانی اترتا ہے، شور تھم جاتا ہے اور یہ قوم پھر اپنی غفلت کی نیند میں ڈوب جاتی ہے۔ یہ صرف پانی کا سیلاب نہیں ہوتا، یہ ہماری بے حسی، کرپشن، اور ناپائیدار حکومتی ترجیحات کا سیلاب ہوتا ہے جو ہر سال لاکھوں زندگیاں بہا لے جاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ 1950 کی دہائی سے لے کر آج تک، ہر دہائی میں تباہ کن سیلاب آئے۔ کبھی پنجاب کے میدان پانی میں ڈوبے، کبھی سندھ کے دیہات اجڑے، کبھی خیبرپختونخوا کے پہاڑی ریلے بستیاں بہا لے گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے کتنی بار ان حادثات سے سبق سیکھا؟ کتنی بار ہم نے کہا کہ ‘‘اب بس، اب یہ نقصان دوبارہ نہیں ہوگا’’؟جواب کڑوا ہے: ایک بار بھی نہیں، ہر بار وہی رونا، وہی امدادی کیمپ، وہی تصویریں، اور پھر وہی خاموشی۔ امدادی رقوم سیاستدانوں اور افسر شاہی کی جیبوں میں چلی گئیں۔ کاغذی رپورٹس تو بنیں مگر فائلوں کی گرد میں دب کر رہ گئیں۔
پاکستان کے پاس پانچ بڑے دریا ہیں یہ دریا اگر منظم کیے جاتے، اگر جدید سائنس کے مطابق ان پر قابو پایا جاتا، تو آج یہ ہمارے لیے تباہی نہیں بلکہ خوشحالی کا ذریعہ ہوتے۔ مگر ہم نے دریائوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔پشتے بنائے گئے مگر کمزور، بیراج تعمیر ہوئے مگر دیکھ بھال نہ ہوئی۔ دریائی کٹاؤ نے بستیاں نگل لیں، مگر حکومتوں نے کبھی دیواریں مضبوط نہ کیں۔ بھارت نے اپنے دریائوں پر درجنوں ڈیم بنا لیے، پانی کو قابو کر لیا، بجلی پیدا کی، کھیتوں کو سیراب کیا۔ اور ہم؟ ہم آج بھی مٹی کے بندوں اور دعاؤں کے سہارے بیٹھے ہیں۔
کالا باغ ڈیم کی مثال لیجیے۔ 1970 کی دہائی سے آج تک ہر حکومت نے اس کا نام استعمال کیا مگر کبھی حقیقت نہ بنایا۔ کبھی سندھ ، کبھی خیبرپختونخوا نے ہاتھ کھڑے کیے، کبھی پنجاب پر الزام لگا کہ وہ سب کچھ اپنے نام کرے گا۔نتیجہ؟ ساٹھ سال ضائع۔ اربوں روپے کے نقصان، لاکھوں زندگیوں کی بربادی، اور کروڑوں ایکڑ پانی ہر سال سمندر میں جا کر ضائع۔ اگر یہ ڈیم بن جاتا تو آج سیلاب کا پانی ذخیرہ ہوتا، بجلی پیدا ہوتی، زراعت کو زندگی ملتی۔ لیکن حکمرانوں کو عوام کی نہیں، اپنی کرسی کی فکر تھی۔
نمائشی منصوبے — ‘‘ڑوڈا’’ اور عوامی تباہی
لاہور کے قریب ‘‘راوی ریور فرنٹ’’ یعنی عوامی زبان میں ‘‘روڈا’’ منصوبہ ایک واضح مثال ہے کہ حکمرانوں کی ترجیحات کہاں ہیں اربوں روپے ہاؤسنگ سکیموں، پلوں اور زمین بیچنے پر لگا دئیے گئے۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ منصوبہ لاہور کو جدید بنائے گا۔ لیکن کسی نے یہ نہ سوچا کہ دریا کے بہاؤ کو منظم کرنے کے بغیر یہ سب کچھ صرف کاغذی عمارتیں ہیں۔جب سیلاب آئے گا تو یہ ‘‘روڈا’’ منصوبہ بھی پانی کے رحم و کرم پر ہو گا۔ لیکن حکمرانوں کو پرواہ نہیں، کیونکہ انہیں اس سے زمینیں بیچنی ہیں، سرمایہ بنانا ہے، اور پروجیکٹ کے کمیشن کمانے ہیں۔ عوام کے نقصان کی فکر کسی کو نہیں۔
پاکستان میں ایک المیہ یہ ہے کہ قومی منصوبے کبھی قومی اتفاق سے مکمل نہیں ہوئے۔ ہر حکومت چاہتی ہے کہ کامیابی کا سہرا اسی کے سر بندھے۔ اگر کسی پچھلی حکومت نے منصوبہ بنایا ہو تو اگلی حکومت اسے ختم کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے کبھی مکمل نہ ہو سکے۔ چاہے وارننگ سسٹم ہو، چاہے ڈیمز ہوں، چاہے حفاظتی پشتے۔ سب کچھ سیاست کی نذر۔کتنی بار ہمیں ڈوبنا ہے؟ کتنی بار ہمیں اپنے بچوں کی لاشیں پانی سے نکالنی ہیں؟ کتنی بار ہماری عورتیں، ہمارے بزرگ، ہمارے کسان بے گھر ہوں گے؟یہ سیلاب صرف پانی کا نہیں، یہ ہماری بے حسی، ہماری غفلت اور ہماری نالائقی کا سیلاب ہے اور جب تاریخ لکھی جائے گی تو لکھا جائے گا: ‘‘یہ ایک ایسی قوم تھی جو ہر سال ڈوبتی تھی، مگر کبھی جاگتی نہ تھی۔’’
سیلاب کے بعد ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ اب ‘‘مستقبل کی منصوبہ بندی کریں گے’’۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس آج تک کوئی مکمل نیشنل فلڈ مینجمنٹ پالیسی نہیں ہے چھوٹے موٹے کاغذی ڈرافٹ بن جاتے ہیں، عالمی اداروں کے سامنے پیش بھی ہو جاتے ہیں، مگر عملی زمین پر کچھ نہیں ہوتا۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں؟ اس کا جواب سادہ ہے: کیونکہ حکمرانوں کو اقتدار کے چند سالوں میں صرف وہ منصوبے پسند آتے ہیں جن پر تختیاں لگتی ہیں اور کمیشن ملتا ہے۔ سیلاب روکنے، ڈیم بنانے اور دریائی نظام کو آرگنائز کرنے جیسے منصوبے چونکہ طویل المدتی ہوتے ہیں اور فوری سیاسی فائدہ نہیں دیتے، اس لیے یہ ہمیشہ پسِ پشت ڈال دئیے جاتے ہیں ۔
لاہور کے اردگرد اربوں روپے لگا کر ‘‘راوی ریور فرنٹ’’ (ڑوڈا) جیسے منصوبے بنا لیے گئے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبے سیلاب روکنے کے بجائے سیلابی پانی کو مزید خطرناک بنا دیں گے۔ دریا کو تنگ کرنا، کناروں پر کثیر آبادی بنانا، اور قدرتی بہاؤ کو روکنا ، یہ سب دراصل تباہی کی نئی شکل ہے۔دنیا کے جدید شہروں میں دریائوں کو آرگنائز کرنے کے لیے پانی کے ذخائر، حفاظتی پشتے، اور ریور پارکس بنائے جاتے ہیں تاکہ سیلابی دباؤ کم کیا جا سکے۔ مگر ہم نے الٹا دریا کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔
بھارت نے دریاؤں پر درجنوں ڈیمز اور بیراج بنا لیے۔ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے وہ دریائی پانی کو قابو میں کر رہا ہے۔ جب چاہے پانی روک لیتا ہے، جب چاہے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ آبی دہشت گردی ہے۔ مگر ہم نے کبھی عالمی عدالت میں صحیح معنوں میں مقدمہ نہیں لڑا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہمارے پاس اپنے ڈیمز ہوتے، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہوتی، تو بھارت کی آبی جارحیت کا اثر اتنا نہ ہوتا۔ مگر ہماری بے عملی نے دشمن کو بھی زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ یہی کرتے رہیں گے؟ نہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم درست سمت اختیار کریں۔
1۔ بڑے ڈیمز کی تعمیر
کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیمز پر قومی اتفاق پیدا کیا جائے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے ذخائر ہر صوبے میں بنائے جائیں۔یہ صرف بجلی یا زراعت کے لیے نہیں، بلکہ سیلابی پانی محفوظ کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
2 ۔ دریاوں کی سائنسی منیجمنٹ
دریا کے کناروں پر مضبوط پشتے، بیراجوں کی اپ گریڈیشن، اور جدید حفاظتی دیواریں بنائی جائیں۔دریا کے قدرتی بہاؤ کو تنگ نہ کیا جائے بلکہ ریور زونز کو خالی کرایا جائے۔
3 ۔وارننگ سسٹم
جدید سیٹلائٹ اور ریڈار پر مبنی وارننگ سسٹم بنائے جائیں۔ہر ضلع میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر ہو جو بروقت اطلاع دے سکے۔
4 ۔عوامی آگاہی
کمیونٹی لیول پر سیلاب کی تربیت، ایمرجنسی ڈرلز، اور بچاؤ کے کورسز کرائے جائیں۔
دیہات میں عوام کو یہ شعور دیا جائے کہ وہ غیر محفوظ علاقوں میں گھر نہ بنائیں۔
5 ۔کرپشن کا خاتمہ؎
ہر سیلابی فنڈ اور منصوبے کا آزادانہ آڈٹ ہو،ذمہ دار افسران اور وزراء کو سزا ملے۔
یہ ملک اب مزید تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سیلاب جب آتا ہے تو صرف گھروں کو نہیں بہاتا، یہ ہمارے بچوں کے خواب بھی بہا لے جاتا ہے۔ یہ ہماری عورتوں کی چادریں چھین لیتا ہے یہ ہماری بوڑھی مائوں کے سہانے سپنے ڈبو دیتا ہے۔کیا ہم ایک ایسی قوم ہیں جسے ہر سال ڈوب کر جاگنا پڑتا ہے؟ کیا ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو یہ تحفہ دینا ہے کہ وہ ہمیشہ پانی میں ڈوب کر لاشیں ڈھونڈیں؟
سیلاب کا اصل دشمن بارش نہیں ہے۔ اصل دشمن ہماری غفلت، کرپشن، اور وقتی سیاست ہے۔ دشمن ہمارے دریائوں پر ڈیم بنائے یا نہ بنائے، ہمیں تو پہلے خود جاگنا ہوگا۔اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔یہ ملک اللہ کی امانت ہے۔ اسے بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ سیلاب کو روکنا صرف انجینئرز یا حکومت کا کام نہیں، یہ ہم سب کی اجتماعی جدوجہد ہے۔
یاد رکھیں سیلاب کے بعد آئندہ کہ تیاری نہ کرنا اور سو جانے والی قومیں کبھی زندہ نہیں رہ سکتیں صرف ماضی کے حکمرانوں پر تنقید حل نہیں ہے غور کریں تو گزشتہ چالیس سال سے یہی لوگ حکمران ہیں کیا یہ جواب دیں گے قوم کو جواب چاہیے اور مجرموں کو سزا ملنی چاہئے۔






