صحت

لبلبے کا کینسر: خاموش قاتل، سب سے مہلک کینسر قرار

اسلام آباد: دنیا بھر میں کینسر مختلف اقسام میں سامنے آتا ہے، لیکن ماہرین صحت کے مطابق اگر سب سے مہلک کینسر کی بات کی جائے تو وہ "لبلبے کا کینسر” (Pancreatic Cancer) ہے، جسے طبی دنیا میں "خاموش قاتل” بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی کینسر کو "مہلک ترین” قرار دینے کے لیے کئی عوامل اہم ہوتے ہیں: جیسے کہ وہ کتنی تیزی سے پھیلتا ہے، اس کی تشخیص کتنی جلد ممکن ہوتی ہے، اور کیا اس کے لیے مؤثر علاج دستیاب ہے یا نہیں۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے لبلبے کا کینسر ان خطرناک ترین اقسام میں شمار کیا جاتا ہے۔

علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں
لبلبے کے کینسر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی علامات اکثر ابتدائی مرحلے میں ظاہر نہیں ہوتیں۔ جب تک مریض کو بیماری کا علم ہوتا ہے، تب تک کینسر جسم میں کافی حد تک پھیل چکا ہوتا ہے، جس سے علاج کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

شرحِ اموات تشویش ناک
طبی رپورٹس کے مطابق اس کینسر میں مبتلا مریضوں کی زندہ رہنے کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے، اور زیادہ تر افراد تشخیص کے بعد صرف چند سال ہی جی پاتے ہیں۔ اس کینسر میں کامیاب سرجری کے امکانات بھی محدود ہوتے ہیں، کیونکہ زیادہ تر کیسز میں تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب بیماری پھیل چکی ہوتی ہے۔

تحقیق اور آگاہی کی ضرورت
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ لبلبے کے کینسر سے نمٹنے کے لیے نہ صرف تحقیق کو فروغ دینا ہوگا بلکہ عوامی سطح پر آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے، تاکہ ابتدائی علامات کو پہچانا جا سکے اور وقت پر تشخیص ممکن ہو۔

ابتدائی علامات کیا ہو سکتی ہیں؟
اگرچہ یہ کینسر اکثر خاموشی سے بڑھتا ہے، تاہم کچھ ممکنہ ابتدائی علامات میں پیٹ میں مسلسل درد، اچانک وزن میں کمی، یرقان (جاؤndice)، بھوک کی کمی، اور معدے میں گیس شامل ہو سکتی ہیں۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر خاندان میں کینسر کی تاریخ ہو یا جسم میں کوئی غیر معمولی علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ جلد تشخیص سے مہلک بیماریوں کا علاج نسبتاً ممکن ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button