پاکستان بچوں کے کینسر کی مفت دواؤں کے عالمی پروگرام میں شامل، نئی امید کی کرن
اسلام آباد – پاکستان کو عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جب اسے گلوبل پلیٹ فارم فار ایکسیس ٹو چائلڈ ہُڈ کینسر میڈیسنز (GPACCM) کے 2025 کے پروگرام میں شامل کر لیا گیا۔ اس اقدام کے تحت آئندہ سال سے ملک میں کینسر کے شکار بچوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔
یہ اعلان وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ اسپتال کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے اس پیش رفت کو "ایک تاریخی سنگ میل” قرار دیتے ہوئے کہا:
"یہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے کہ ہمیں اس اہم عالمی پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ شراکت داری ہزاروں معصوم جانوں کو بچانے کا ذریعہ بنے گی۔”
وزیر صحت کے مطابق، پاکستان میں ہر سال 8,000 سے زائد بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، جن میں سے کئی بچے بروقت اور موثر علاج نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کینسر کے شکار بچوں تک معیاری علاج کی رسائی ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
علاج کی سہولت میں بہتری، امید کی نئی راہیں
ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ GPACCM کے تحت پاکستان بین الاقوامی وسائل سے فائدہ اٹھا کر ادویات کی فراہمی، تشخیص اور علاج کے میدان میں بہتر نتائج حاصل کر سکے گا۔ انہوں نے متعلقہ قومی و بین الاقوامی اداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا:
"ہم گلوبل پلیٹ فارم سے بھرپور استفادہ کریں گے تاکہ پاکستان میں پیڈیاٹرک کینسر کیئر کو نئی بلندیوں پر لے جایا جا سکے۔”
بچوں کی زندگی بچانے کی امید
وزارتِ صحت کے مطابق، یہ پروگرام ان خاندانوں کے لیے ایک بڑی راحت بنے گا جو کینسر کے مہنگے علاج کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ اس اقدام سے نہ صرف شرحِ اموات میں نمایاں کمی متوقع ہے بلکہ بچوں کے کینسر کے علاج کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عالمی اشتراک سے پاکستان میں بچوں کے کینسر کے علاج کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے، جو ایک نسل کو نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔





