صحت

معدے کے کینسر سے بچاؤ کی اُمید: چلی کے سائنسدانوں کی 17 سالہ تحقیق سے نئی پروبائیوٹک کی کامیاب تیاری

سانتیاگو (چلی): معدے کے کینسر جیسے مہلک مرض کے خلاف جنگ میں ایک بڑی سائنسی کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی آف کونسیپسیون سے تعلق رکھنے والی معروف محقق ڈاکٹر اپولیناریا گارسیا کینسینو نے 17 سالہ مسلسل تحقیق کے بعد ایک نئی پروبائیوٹک تیار کر لی ہے، جو معدے کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ سمجھے جانے والے ہیلیکوبیکٹر پائلوری (H. pylori) بیکٹیریا کے خلاف انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

تحقیقات کے دوران کلینیکل ٹرائلز میں یہ بات سامنے آئی کہ جن رضاکاروں نے یہ پروبائیوٹک استعمال کی، ان میں صرف 2.7 فیصد افراد H. pylori سے متاثر ہوئے، جبکہ پلیسبو گروپ میں متاثرین کی شرح 34.2 فیصد رہی۔ اس طرح یہ پروبائیوٹک 92.1 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی۔

پروبائیوٹک کیسے کام کرتی ہے؟
یہ پروبائیوٹک معدے میں پائے جانے والے قدرتی مفید بیکٹیریا جیسے Lactobacillus اور Bifidobacterium کو فعال کرتی ہے۔ یہ بیکٹیریا معدے کے سخت تیزابی ماحول میں بھی زندہ رہتے ہیں اور نہ صرف H. pylori کی افزائش روکتے ہیں بلکہ معدے کی مائیکرو بایوم کو متوازن رکھ کر کینسر کی روک تھام میں بھی مدد دیتے ہیں۔

عالمی سطح پر رسائی کی جانب قدم
یہ اہم پیش رفت چلی کی بایوٹیک کمپنی ‘لیوا’ اور اطالوی کمپنی ‘ساکو سسٹم’ کے اشتراک سے ممکن ہوئی، جنہیں اس پروبائیوٹک کی تجارتی تیاری اور عالمی سطح پر فراہمی کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کر دیا گیا ہے۔

عوامی صحت کے لیے خوشخبری
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پروبائیوٹک نہ صرف معدے کے کینسر بلکہ دیگر معدے سے متعلق بیماریوں کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، اور یہ ایک قدرتی، محفوظ اور سستا حل فراہم کرے گی، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button