سائنس ٹیکنالوجی

ٹک ٹاک پر نیا رجحان: بھنڈی کا پانی – حقیقت یا محض فیشن؟

(نیوز ڈیسک) — بھنڈی، جو ہمارے روزمرہ کھانوں کا حصہ ہے، اب ٹک ٹاک پر ایک نئے انداز میں شہرت حاصل کر رہی ہے – بطور ’’بھنڈی والا پانی‘‘۔

سوشل میڈیا خاص طور پر ٹک ٹاک پر کئی صارفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ رات بھر پانی میں بھگوئی گئی کچی بھنڈی کا پانی پینا بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے، ہاضمے کو بہتر بنانے اور وزن میں کمی کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس رجحان نے دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

غذائی ماہرہ انجیلا گراہم کے مطابق، اس نئے فٹنس ٹرینڈ کو قدرتی علاج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن سائنسی نقطہ نظر سے اس کے فوائد پر ابھی تحقیق درکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھنڈی بلاشبہ غذائیت سے بھرپور سبزی ہے جس میں وٹامن K، وٹامن C، فولیٹ، وٹامن B6، مینگنیز اور تھامین جیسے اہم غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔

بھنڈی کم کیلوریز والی غذا ہے — ایک کپ بھنڈی میں صرف 33 کیلوریز ہوتی ہیں — اور اگر بغیر تیل کے استعمال کی جائے تو یہ مکمل طور پر چکنائی سے پاک ہوتی ہے۔

لیکن کیا بھنڈی کا پانی بھی اتنا ہی فائدہ مند ہے؟

انجیلا کا کہنا ہے کہ بھنڈی کے غذائی اجزا واقعی بہترین ہیں، مگر یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وہ اجزا پانی میں کتنے مقدار میں منتقل ہوتے ہیں اور آیا کہ وہ جسم میں جذب ہونے پر وہی فائدے دیتے ہیں جو پکی ہوئی یا کچی بھنڈی کھانے سے حاصل ہوتے ہیں۔

نتیجہ: اعتدال ضروری ہے

اگرچہ بھنڈی کا پانی ایک نیا تجربہ ضرور ہے اور اسے آزمانے میں کوئی حرج نہیں، مگر مکمل سچائی یہ ہے کہ اس کے سائنسی فوائد پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ لہٰذا کسی بھی ٹرینڈ کو اپنانے سے پہلے ماہرین سے مشورہ لینا بہتر ہوگا۔

اگر آپ چاہیں تو میں اسے سوشل میڈیا

(نیوز ڈیسک) — بھنڈی، جو ہمارے روزمرہ کھانوں کا حصہ ہے، اب ٹک ٹاک پر ایک نئے انداز میں شہرت حاصل کر رہی ہے – بطور ’’بھنڈی والا پانی‘‘۔

سوشل میڈیا خاص طور پر ٹک ٹاک پر کئی صارفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ رات بھر پانی میں بھگوئی گئی کچی بھنڈی کا پانی پینا بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے، ہاضمے کو بہتر بنانے اور وزن میں کمی کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس رجحان نے دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

غذائی ماہرہ انجیلا گراہم کے مطابق، اس نئے فٹنس ٹرینڈ کو قدرتی علاج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن سائنسی نقطہ نظر سے اس کے فوائد پر ابھی تحقیق درکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھنڈی بلاشبہ غذائیت سے بھرپور سبزی ہے جس میں وٹامن K، وٹامن C، فولیٹ، وٹامن B6، مینگنیز اور تھامین جیسے اہم غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔

بھنڈی کم کیلوریز والی غذا ہے — ایک کپ بھنڈی میں صرف 33 کیلوریز ہوتی ہیں — اور اگر بغیر تیل کے استعمال کی جائے تو یہ مکمل طور پر چکنائی سے پاک ہوتی ہے۔

لیکن کیا بھنڈی کا پانی بھی اتنا ہی فائدہ مند ہے؟

انجیلا کا کہنا ہے کہ بھنڈی کے غذائی اجزا واقعی بہترین ہیں، مگر یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وہ اجزا پانی میں کتنے مقدار میں منتقل ہوتے ہیں اور آیا کہ وہ جسم میں جذب ہونے پر وہی فائدے دیتے ہیں جو پکی ہوئی یا کچی بھنڈی کھانے سے حاصل ہوتے ہیں۔

نتیجہ: اعتدال ضروری ہے

اگرچہ بھنڈی کا پانی ایک نیا تجربہ ضرور ہے اور اسے آزمانے میں کوئی حرج نہیں، مگر مکمل سچائی یہ ہے کہ اس کے سائنسی فوائد پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ لہٰذا کسی بھی ٹرینڈ کو اپنانے سے پہلے ماہرین سے مشورہ لینا بہتر ہوگا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button