امریکا میں مصنوعی ذہانت کی زبردست پیش رفت: نان اسموکرز میں پھیپھڑوں کے کینسر کی پیش گوئی کرنے والا AI ماڈل تیار
واشنگٹن: میڈیکل سائنس اور مصنوعی ذہانت (AI) کے امتزاج نے ایک اور انقلابی قدم اٹھا لیا۔ حال ہی میں امریکا میں ایک جدید AI ماڈل تیار کیا گیا ہے جو ان افراد میں بھی پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے جو سگریٹ نہیں پیتے۔
اس AI ماڈل کو CXR-Lung-Risk کا نام دیا گیا ہے، جو صرف ایک معمولی سینے کے ایکسرے کی بنیاد پر کینسر کے خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔ یہ ماڈل ڈیپ لرننگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے، جو ایکسرے میں چھپی باریک علامات کو پہچان کر خطرے کی سطح بتاتا ہے — وہ علامات جو انسانی آنکھ شاید نظرانداز کر دے۔
تربیت اور تجربات:
ماڈل کو 147,497 ایکسرے تصاویر پر تربیت دی گئی، جن کا تعلق 40,643 افراد سے تھا — جن میں سگریٹ پینے والے اور نہ پینے والے دونوں شامل تھے۔
اس کے بعد اسے 17,407 نان اسموکرز پر آزمایا گیا، جنہوں نے 2013-2014 کے دوران عام سینے کے ایکسرے کروائے تھے۔
ماڈل نے ان میں سے 28 فیصد کو "ہائی رسک” قرار دیا، جن میں سے 2.9 فیصد میں بعد ازاں پھیپھڑوں کا کینسر تشخیص ہوا۔
یہ شرح اس موجودہ معیار (1.3%) سے کہیں زیادہ ہے جس پر نیشنل کمپریہینسو کینسر نیٹ ورک (NCCN) اسکریننگ کی سفارش کرتا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ موجودہ اسکریننگ گائیڈ لائنز بعض اوقات ان افراد کو نظرانداز کر سکتی ہیں جو سگریٹ نہیں پیتے مگر خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔
عوامی صحت میں انقلاب
CXR-Lung-Risk جیسے AI ماڈلز عوامی صحت میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ یہ ماڈل خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہے جو موجودہ اسکریننگ گائیڈ لائنز میں شامل نہیں ہوتے، مگر ان کے ایکسرے ڈیٹا میں ایسے اشارے موجود ہوتے ہیں جو کینسر کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ماڈل مستقبل میں کینسر کی جلد تشخیص اور زندگیوں کے تحفظ کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جو "کم رسک” سمجھے جاتے ہیں لیکن درحقیقت "ہائی رسک” کیٹیگری میں آ سکتے ہیں۔






