گرمیوں میں انڈے کھانے سے گریز کی ضرورت نہیں، درست مقدار اور طریقہ اپنائیں تو فائدہ ہی فائدہ!
15 مئی – کراچی: گرمیوں کے موسم میں اکثر لوگ انڈے کھانے سے گریز کرتے ہیں، یہ سوچ کر کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرینِ غذائیت اس خیال کو غلط فہمی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر درست مقدار اور صحیح طریقے سے انڈے کھائے جائیں، تو یہ ہر موسم میں فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
انڈہ ایک مکمل غذا ہے جو پروٹین، وٹامنز اور منرلز کا بھرپور ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف توانائی بحال کرتا ہے بلکہ دل، دماغ اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ گرمیوں میں جب جسم نڈھال ہو جاتا ہے، انڈے کی مناسب مقدار جسم کو تقویت دے سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمیوں میں انڈے کھانے سے پرہیز کرنے کے بجائے فرائی کی جگہ اُبال کر کھانے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ چکنائی سے بچا جا سکے اور بدہضمی نہ ہو۔ اس کے علاوہ، تازہ انڈوں کا استعمال جلدی مسائل سے بچنے کے لیے اہم ہے۔
روزانہ ایک انڈہ، خاص طور پر انڈے کی سفیدی، نہ صرف محفوظ ہے بلکہ صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہے۔ کولیسٹرول یا دل کے مریض انڈے کی زردی کو محدود مقدار میں استعمال کر کے بھی اس نعمت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ماہرین تغذیہ کا کہنا ہے کہ اگر مناسب مقدار میں انڈے کھائے جائیں، تو یہ گرمیوں میں بھی توانائی، مدافعت اور مجموعی صحت کے لیے بہترین غذا بن سکتے ہیں۔





