بھارت جنگ کا کھیل شروع کر نا چاہتا ہے ہمت نہیں ہو رہی
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
پاکستان اور بھارت دونوں جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے مگر بھارت سبکی سے بچنے کیلئے راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں خطے کو مشکل میں ڈال سکتا ہے جس کا خمیازہ پوری دنیا کو چکھنا پڑے گا کسی کو کم کسی کو زیادہ نقصان سب کا ہوگا اور فائدہ صرف اسلحے کے سوداگروں کا و گا ہیروشیما کی جنگ ہو یا 9/11 کے بعد افغانستان ہو نقصان انسانیت کا ہو گا،یہ ایک دلچسپ نقطہ نظر ہے۔ پاکستان کے فوجی سازوسامان کو اکثر اس کی اسٹریٹجک شراکت داری اور دفاعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی بدولت انتہائی جدید اور اچھے معیار کا تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان نے بابر اور شاہین سیریز سمیت بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی ایک رینج تیار کی ہے، جو ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان نے چینی ساختہ HQ-9 اور HQ-16 جیسے جدید فضائی دفاعی نظام حاصل کیے ہیں، جو فضائی خطرات کے خلاف مضبوط تحفظ فراہم کرتے ہیں۔پاکستان کے آبدوزوں کے بیڑے بشمول Agosta 90B اور Hangor-class آبدوزیں انتہائی قابل اور جدید سینسرز اور ہتھیاروں سے لیس سمجھی جاتی ہیں۔
دوسری طرف ہندوستان بھی اپنی فوجی جدید کاری کی کوششوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس کی توجہ مقامی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول پر مرکوز ہے۔
کچھ ایسے شعبے جہاں بھارت کو اہم پیش رفت کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے ان میں شامل ہیں:
ہندوستان فوجی ساز و سامان کی مقامی ترقی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، بشمول طیارہ بردار بحری جہاز، آبدوزیں اور میزائل سسٹم۔مگر انکی صلاحیت بہر حال سوالیہ نشان ہے کہ کہیں بھی دھوکا دے سکتا ہے ہندوستان نے اہم خلائی صلاحیتیں تیار کی ہیں، بشمول سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی اور مواصلاتی نظام۔ہندوستان سائبر وارفیئر کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، بشمول جدید سائبر سیکورٹی سسٹمز اور جارحانہ سائبر صلاحیتوں کی ترقی۔بھارت کیوں کہ سازشوں پر یقیں رکھتا ہے اس لیے اس شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے
بالآخر، فوج کی تاثیر کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے، بشمول تربیت، نظریہ، لاجسٹکس، اور حکمت عملی، سامان کے معیار کے علاوہ۔پاکستان کی افواج بہت برتری رکھتی ہیں اور اسلام وطن کی حفاظت کو شہادت اور سامان آخرت کا یقین ہے جس وجہ سے جذبہ بہت اہم ہے جس میں پاک فوج کو بہت برتری حاصل ہے
ایسا لگتا ہے کہ دنیا پاک بھارت کشیدگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، لیکن اس نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی فیصلہ کن اقدام نہیں کیا۔ یہ مختلف عوامل کی وجہ سے ہوسکتا ہے، ان میں بھارت کا غیر لچکدار رویہ اور عالمی قوانیں کا احترام نہ کرنا شامل ہے شاید کچھ ممالک بھی یہ چاہتے ہیں کہ بھارت کو سبق ملنا چاہیے
تنازعہ کی جڑیں تاریخی، ثقافتی اور سیاسی اختلافات میں گہری ہیں، جس کی وجہ سے اس کا حل تلاش کرنا مشکل ہے۔بھارت کشمیر پر 370 کی حیثیت تبدیل کر کے اور سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ ختم کر کے عالمی قوانین کیخلاف ورزی کا مرتکب ہوچکا ہے
بین الاقوامی سفارتی کوششیں ہو سکتی ہیں، لیکن عوامی طور پر نظر نہیں آتیں۔ دیگر عالمی مسائل، جیسے یوکرین، غزہ کے تنازعات، یا معاشی خدشات، ترجیح لے رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کا نقطہ نظر تنازعہ کی رفتار اور ممکنہ حل کے لیے اہم مضمرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
اب فیصلہ عالمی قوتیں کریں گی دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے یا سب اصول بالائے طاق رکھنا ہے اگر اقوام عالم نے انصاف کا دامن نہ تھاما تو پھر مشکلات میں اضافہ ہو گاپھر جو کچھ غزہ میںہوا جو کشمیریوں کیساتھ ہوا جو گجرات کے قصائی نے مسلمانوں کے ساتھ کیا جو آج پوری دنیا کے انسانیت کے لیے ایک اور شرمندگی کے علاوہ کچھ نصیب نہ ہو گادنیا ایک پیچیدہ اور متحرک جگہ ہے اور اس کی حفاظت کا اندازہ لگانا ایک مشکل کام ہے۔ اگرچہ یقین کے ساتھ مستقبل کی پیشین گوئی کرنا ناممکن ہے، یہاں کچھ نکات پر غور کرنا ہے:
مختلف خطوں میں جاری تنازعات، جیسے یوکرین، غزہ، اور یمن، اہم انسانی اور سلامتی کے چیلنجز کا باعث ہیں۔جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور ان کے استعمال کی صلاحیت عالمی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں عالمی استحکام اور سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔معاشی عدم استحکام اور عدم مساوات سماجی بدامنی اور تنازعات میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ عالمی ادارے اور بین الاقوامی تعاون تنازعات کو کم کرنے اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد کر سکتے ہیں۔سفارتی کوششیں تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرسکتی ہیں اور تناؤ کو کم کرسکتی ہیں۔اقوام کے درمیان اقتصادی باہمی انحصار تعاون کو فروغ دے سکتا ہے اور تصادم کے امکانات کو کم کر سکتا ہے۔تکنیکی ترقی مواصلات، تعاون، اور تنازعات کے حل کو بہتر بنا سکتی ہے۔
جنگ کا پھیلنا اکثر غیر متوقع ہوتا ہے، اور غیر متوقع واقعات کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ بظاہر معمولی واقعات بھی بڑے تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔ اقوام کے درمیان موجودہ تناؤ، خاص طور پر جوہری صلاحیتوں کے حامل، تنازعات کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔






