کالمز

کولنگ ڈائون کا بلڈ اپ

کولنگ ڈائون کا بلڈ اپ
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ طارق سہیل
بظاہر پاک بھارت تنائو میں کمی کے آثار ہیں۔ رات دن پاکستان پر چڑھائی کے مطالبے کرنے والے بھارتی میڈیا نے پینترا بدلا ہے اور اب وہ کہہ رہا ہے کہ دیکھو، پاکستان جنگ کی باتیں کر رہا ہے ، ہم تو نہیں کر رہے۔ تنائو میں اس کمی کی وجہ ایک نہیں کئی ہیں لیکن جو بھی ہو، بھارت، بالخصوص مودی کا بھارت قابل اعتبار نہیں۔ وہ کوئی بھی شرارت، موقع ملنے پر کر سکتا ہے۔

سب سے بڑی بات شاید یہ ہوئی کہ بھارت نے دنیا کے چار درجن ملکوں سے، ان ملکوں سے جو درجہ بدرجہ کوئی اہمیت رکھتے ہیں اور ان میں امریکہ، روس ، سعودی عرب بھی شامل ہیں، رابطے کئے اور حمایت کی بھیک لینے کے لیے اپنا کشکول آگے بڑھایا لیکن کسی نے بھارت کے اس موقف کی حمایت نہیں کی کہ پہلگام میں دہشتگردی کا واقعہ پاکستان نے کرایا۔ یوں پاکستان پر حملے کیلئے جو اخلاقی اور نفسیاتی حوصلہ بھارت کو چاہیے تھا، وہ اسے نہیں ملا۔
دوسری بات یہ ہوئی کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں بھارت کو کچھ نئی باتیں ملیں…مثلاً طیارے جام کرنے، ان کا کمپیوٹرائزڈ سسٹم ’’ہیک‘‘ کرنیکی صلاحیت کا پتہ چلا اور وہ بھی عملی طور پر۔ نئے حاصل کردہ رافیل طیارے جن پر بھارت کو حد سے زیادہ ناز تھا، ان میں سے چار طیارے ایک بار اڑے تو بھارتی معلومات کے برعکس فوراً ہی پاکستان کے راڈار کی پکڑائی میں آ گئے۔ ایک دوسرے موقع پر ایک بہت طاقتور بھارتی طیارے کو پاکستان نے 22 منٹ تک جام کئے رکھا۔ تیسرے والے میں بھارت کے ڈورون طیارے پاکستانی ماہرین نے اپنے کنٹرول میں لے کر انہیں زمین پر اتار لیا۔ ایک تباہ ہو گیا۔ دوسرا محفوظ اتر گیا، پاکستانی علاقے میں…

پاکستانی میزائل بھارتی میزائلوں سے اور پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی بھارتی میزائل ٹیکنالوجی سے کہیں آگے ہے۔ یہ بھارت کے علم میں تھا لیکن اب بھارت کو نئی اطلاع یہ ملی کہ جتنا آگے سمجھا جاتا تھا، بات اس سے بھی بہت آگے کی ہے۔ پاکستانی فضائیہ اور پاکستانی میزائل نہایت مختصر وقت میں بھارتی نیوی کی اس ساری قوت کو تباہ کر سکتی ہے جو پاکستانی سمندروں میں داخل ہو کر کراچی کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کرے گی، یہ بات بھی بھارت کو اب معلوم ہوئی۔
تیسری بات یہ ہوئی کہ امریکہ نے جنگ کی بھارتی خواہش کو مسترد کر دیا۔ شروع شروع میں صدر ٹرمپ کا بیان آیا کہ پاکستان اور بھارت خود ہی بات چیت کر کے کشیدگی دور کر لیں گے۔ اس کا ترجمہ ہمارے ٹی وی چینلز پر بیٹھے جینئس اور خارجی و دفاعی امور کے ’’بے مثال‘‘ ماہر تجزیہ نگاروں نے یہ کیا کہ امریکہ نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں اور وہ اس تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتا، حالانکہ ٹرمپ کے بیان کا مطلب سمجھنے کیلئے کسی پرائمری سکول کے بچے سے بھی مدد لی جا سکتی تھی۔ ٹرمپ صاف طور پر دونوں ملکوں، بالخصوص بھارت کو مذاکرات کی راہ دکھا رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ یہ کام وہ خود ہی کر لیں ورنہ ہم کرا دیں گے اور پھر وہی ہوا۔ امریکی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم اور بھارتی وزیر خارجہ سے فون پر بات کی اور کشیدگی ختم کرنے کا ’’حکم‘‘ دیا۔ یہاں ایک ’’ڈنڈی‘‘ ضرور مار لی گئی۔ پروٹوکول کے حساب سے مارکو روبیو کو پاکستانی وزیر خارجہ سے بات کرنی چاہیے تھی لیکن انہوں نے وزیر اعظم سے بات کی۔ یا تو وہ دونوں ملکوں میں ہی وزیر اعظم سے بات کرتے۔ ایک بات یہ بھی کہی جا رہی ہے کہ ایسا خود پاکستانی وزیر اعظم کی خواہش پر ہوا۔

امریکی پالیسی سے بھارت ’’دکھی‘‘ ہو گیا۔ یہ اور کئی دوسرے عوامل معاملے کو ٹھنڈا کرنے کا باعث بنے۔ اب کشیدگی میں کمی کا ’’بلڈ اپ‘‘ ہو رہا ہے۔ بلڈ اپ صرف منفی معاملات ہی میں تو نہیں ہوتا، مثبت پیشرفت کو بھی اس اصطلاح سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
اس دوران بھارتی پلان میں بھی ردّ و بدل ہوا۔ ابتدائی طور پر طے تھا کہ پاکستان کے اندر، کچھ شہروں میں جہاں بھارت کے بقول ’’دہشت گرد‘‘ چھپے ہوئے ہیں، ٹارگیٹڈ میزائل حملوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت میں فوج داخل کی جائے گی۔ پھر پتہ چلا کہ گلگت میں گھسے تو چین لداخ اروناچل (سابقہ نیفا)) کے بارڈر پر اپنی فوج لے آئے گا۔

پھر چین کی وزارت خارجہ کا بیان بھی آ گیا کہ ہم پاکستان کی علاقائی سالمیت کی گارنٹی چاہتے ہیں یعنی گلگت پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے۔ ساتھ میں یہ بھی تھا کہ گلگت میں داخلے سے ذرا پہلے کارگل آتا ہے جو پاکستانی آرٹلری اور چھوٹے میزائل خانے کی ’’گرفت‘‘ میں ہے۔ وہاں سے ہو کر جانا کارے داردر…اب وہی ہونے کو جا رہا ہے۔
_______
ایک عام خیال تھا کہ بی جے پی بھارت کے بہت سے علاقوں میں مسلمانوں پر منظم حملے کرے گی۔ بالخصوص راجستھان، گجرات اور مہاراشٹر میں مسلمانوں پر وسیع حملے ہوں گے۔ لیکن توقعات کے برعکس، کوئی بڑا دنگا نہیں ہوا۔ اکادکا قتل کے واقعات اگرچہ پانچ چھ کے قریب رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اور کشمیر میں مسلمانوں کے قتل ، گرفتاریوں اور گرا ئے جانے کی خبریں ان سے ہٹ کر ہیں۔
ایسا کیوں ہوا؟۔ کیا سعودی سرمایہ کاری کے رک جانے کا اندیشہ ہے؟

_______
بھارت میں شیڈولڈکاسٹس کی مردم شماری کرانے کا فیصلہ ہوا ہے جو حیران کن ہے۔ بھارت کی تینوں اونچی ذاتیں برہمن ، کھشتری اور ویش ہمیشہ سے اس کی مخالف رہی ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ کانگرس اور اپوزیشن کا دبائو اس مطالبے کے حق میں بہت زیادہ تھا اور بڑھتا ہی جا رہا تھا، اس لئے یہ ہوا۔

ہمارے ہاں تصور ہے کہ بھارت میں برہمن راج ہے۔ یہ تاثر یا تصور ٹھیک نہیں۔ بھارت میں دراصل کھشتری اور ویش راج ہے۔ دفاع سے لے کر تجارت تک، سیاست سے لے کر ثقافت تک سارے فیصلے یہی دو قومیں کرتی ہیں۔ عام تاثر ہے کہ شیڈولڈ کاسٹ بھارت کی اکثریت ہیں۔ ویش اور کھشتری اور برہمن اقلیت ہیں۔ نئی مردم شماری سے یہ بات سچ ثابت ہو جائے گی، پھر ماحول وہ نہیں رہے گا جو اب ہے۔

عبداللہ طارق سہیل

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑہیں
Close
Back to top button