کالمز

غیرت والے بے غیرت

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ طارق سہیل

اسرائیل نے جنوبی شام میں الگ ملک بنانے کیلئے بڑا چالاک منصوبہ بنایا اور کامیابی سے اس پر عمل بھی کر ڈالا لیکن نتیجہ الٹ نکلا۔ ایسا الٹ کہ نیتن یاہو کا دماغ ہی الٹ گیا اور اب امریکی حکام کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کر نیتن یاہو پاگل ہو گیا ہے۔
منصوبہ یہ تھا کہ یہودیوں کے پرانے اتحادی دروزیوں کے علاقے کو شام سے الگ کر کے ایک ملک بنا دیا جائے۔ یہ ملک شام اور اسرائیل کے درمیان ’’بفر کنٹری‘‘ ہوتا۔ اسرائیل یہ کام جنوبی شام میں اپنی فوج داخل کئے بغیر نہیں کر سکتا تھا۔ فوج داخل کرنے کا بہانہ ہونا چاہیے۔
ابتدائی ماحول بنانے کیلئے اسرائیل کئی ماہ سے کام شروع کر چکا تھا۔ اس نے بار بار کہا کہ دروزی ہمارے بھائی ہیں، شام کو ان پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ان کا الگ ملک ہونا چاہیے۔ اس وقت تک دروزیوں پر کسی قسم کا کوئی بھی ’’ظلم‘‘ نہیں ہو رہا تھا۔
اس سے بھی پہلے اس نے کہا تھا جنوب کے دروزیوں اور مغرب (لطاکیہ) کے الوائٹس کو ملا کر ایک نیا ملک بنانا چاہیے، بعدازاں نظرثانی کرتے ہوئے الوائٹس کو الگ رکھا اور صرف دروزی ملک کی مانگ کرتا رہا۔
منصوبے پر عملدرآمد دروزیوں اور بردوں میں لڑائی سے ہوا۔ یہ لڑائی اچانک ہوئی اور کسی کو سمجھ میں نہ آیا کہ ہوا کیا۔ اب کہانی کی تفصیل آ گئی ہے۔ اسرائیل کے حکم پر دروزیوں نے اپنے علاقے میں، شہروں سے باہر گوٹھ دیہات میں آباد بردوں کا قتل عام کیا، رات کی تاریکی میں اور سینکڑوں برد زندہ جلا دئیے۔ اگلے روز مشتعل بدوؤں نے جوابی حملہ کیا۔ سو کے لگ بھگ دروزی مارے گئے۔ بس یہی چاہیے تھا۔ اسرائیل نے دمشق پر بمباری کی، دروزی علاقے میں لڑائی بند کرانے کیلئے جو شامی دستے وہاں گئے، ان پر بھی بمباری کر ڈالی اور اعلان کیا کہ اس کی فوج دروز علاقے میں داخل ہونے والی ہے۔
اس پر شام کے بعض قبائل حرکت میں آئے۔ راتوں رات 60 ہزار کا لشکر بنا جو دروزی علاقے میں داخل ہو گیا۔ ڈرامے کا یہ وہ ایکٹ تھا جو اسرائیل نے نہیں لکھا تھا۔ قبائلی لشکر نے کئی دروز شہروں اور محلوں پر قبضہ کر لیا۔ گھمسان کی لڑائی میں دروزیوں کا خاصا نقصان ہوا اور ان کے ایک دھڑے نے شام سے صلح کی خواہش کی اور اپنی قوم سے کہا کہ وہ شام کا حصہ بن جائیں اسرائیلی فوج کیلئے ان قبائلیوں پر بمباری آسان نہیں۔ وہ دروزیوں کے شہروں میں ہیں، بمباری سے دروزی بھی مریں گے۔ زمینی فوج بھیجی تو گوریلا، زمینی جنگ شروع ہو جائے گی جو اسرائیلی فوج کبھی لڑ ہی نہیں سکتی۔
____
دروزی علاقہ دمشق کے جنوب میں، مغرب اور مشرق دونوں سمت میں پھیلا ہوا ہے اور بیشتر لوگوں کو پہلی بار یہ پتہ چل رہا ہے کہ یہ علاقہ مدتوں سے شامی حکومت کے دائرہ عمل، رٹ ، سے باہر ہے، یہ کام بشارالاسد کے باپ حافظ الاسد نے اسرائیل کے ساتھ ملی بھگت کر کے کیا تھا۔ رسمی طور پر یہ شام کا علاقہ ہے لیکن کوئی شامی فوجی اس میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
اسرائیلی ایڈونچر کا نتیجہ یہ نکلا کہ احمد الشرع کی فوج سارے دروز علاقے میں داخل ہو گئی ہے۔ اسرائیل کی دمشق پر بمباری سے بچنے کیلئے وہ کسی شہر میں داخل نہیں ہوئی لیکن ہر شہر کے چاروں اطراف وہ موجود ہے۔ یعنی پچاس برس بعد ، پہلی بار، دروز علاقہ پھر سے شام کا حصہ بن گیا ہے۔ قبائلی لشکر شہروں میں گھس گیا ہے اور کئی روز سے خونی جنگ جاری ہے۔
دروز ملیشیا کا سربراہ حکمات ہجری نہایت سفاک درندہ ہے۔ وہ نہتے بدو دیہاتیوں کو گرفتار کرتا، ان کے ہاتھ پائوں باندھ کر انہیں زندہ جلا دیتا ہے۔ جیسا نیتن یاہو، ویسا حکمات ہجری۔
امریکہ نے اسرائیل کو اس کی حدود بتا دی ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ شام کے حصے بخرے نہیں ہو سکتے۔ کوئی کردستان میں چلے گا، کوئی الوائٹستان نہیں بن سکتا اور کسی دروزستان کی بھی گنجائش نہیں۔ کردوں سے ملاقات میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ٹام بروک نے کہا، تمام شامیوں کو شام میں ضم ہونا ہو گا۔
اسرائیل دمشق پر بمباری نہیں کر رہا لیکن جنوب میں حملے کرا رہا ہے۔ وائٹ ہائوس کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ نیتن یاہو بے قابو ہو گیا ہے اور پاگل پن اس پر سوار ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کو کہا کہ اب بس کرو، متعدد امریکی عہدیداروں نے کہا کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں تشویش ناک ہیں۔
بہرحال، 50 سال بعد نام نہاد دروزستان پھر سے شام کا حصہ بننے جا رہا ہے۔
____
بلوچستان میں غیرت کے نام پر میاں بیوی کو جرگہ والوں نے کھلے میدان میں لا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ دونوں نے پسند کی شادی کی تھی، غیرت سے محروم جرگے والوں نے قتل کی سزا سنا دی۔ وڈیو وائرل ہوئی اور ہنگامہ برپا ہوگیا۔
عزت کے نام پر پورے ملک میں ہر سال سینکڑوں عورتیں شہید کر دی جاتی ہیں لیکن آج تک کسی قاتل کو سزا نہیں دی جا سکی۔ ایوان اقتدار ہو یا ایوان انصاف، سب جگہ ’’جرگے‘‘ کی حکومت ہے۔ یہ عقیدے کا مسئلہ ہے اور عقیدہ، اس جرگہ پارٹی کا ، یہ کہتا ہے کہ عورت پائوں کی جوتی ہے، جب چاہو بدل دو، پرانی کو کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دو۔ وفاقی حکومت میں بلاول بھٹو کی پارٹی بھی بالواسطہ شامل ہے۔ بلاول نے اس قتل کی مذمت کی ہے، باقی وفاقی حکومت خاموش ہے۔ جرگہ بگوش وفاقی حکومت۔
____
صرف وفاقی ہی نہیں، میڈیا بھی جرگہ بگوش ہے۔ نہ ہوتا تو اس طرح سے خبر کیوں چھپا کرتی کہ بھائی نے غیرت میں آ کر بہن مار دی جبکہ صحیح الفاظ تو کچھ یوں ہوتے کہ بے غیرت شخص نے بہن کو مار دیا، ایک بے غیرت نے بیٹی کو قتل کر دیا۔ غل مچانے والے اپنا ’’غل‘‘ ضائع کر رہے ہیں۔ پاکستان عورت کش معاشرہ تھا، ہے اور رہے گا۔
____
ترک وزیراعظم نے بالکل سچ بات کی کہ ترکی مظلوموں کا ساتھ دیتا رہے گا۔
ویسے یہ بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ مظلوم اسرائیل کی سب سے زیادہ مالی امداد ، امریکہ کے بعد، کس نے کی ہے۔ چلئے ، کوئی بات نہیں، بتا دیا تو بس بتا دیا۔

عبداللہ طارق سہیل

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button