ایران میں ڈاکٹروں نے منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والی نایاب طبی حالت کا انکشاف کر دیا
اصفہان: ایران میں ڈاکٹروں نے ایک 23 سالہ نوجوان کے حوالے سے ایک نایاب اور چونکا دینے والا کیس رپورٹ کیا ہے، جس میں مسلسل منشیات کے استعمال کے باعث نوجوان کی گردن اس حد تک کمزور ہو گئی کہ اس کا سر مکمل طور پر 90 ڈگری کے زاویے پر جھک گیا۔
اصفہان یونیورسٹی آف میڈیسن کے ماہرین نے اس کیس کو طب کی دنیا میں ایک منفرد مثال قرار دیا ہے۔ مریض کو "ڈراپڈ ہیڈ سنڈروم” کا سامنا تھا، ایک ایسی نایاب طبی کیفیت جس میں گردن کے پٹھے اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ وہ سر کے وزن کو سہارا نہیں دے پاتے۔
یہ سنڈروم عموماً پیدائشی بیماریوں، اعصابی نظام کی خرابیوں یا دیگر جینیاتی مسائل کے باعث ہوتا ہے، مگر ایرانی ماہرین کے مطابق یہ پہلا کیس ہے جس میں اس حالت کی بنیادی وجہ طویل عرصے تک منشیات کا استعمال بنی۔ رپورٹ کے مطابق، مریض برسوں سے مختلف اقسام کی نشہ آور ادویات کا عادی تھا، جس سے اس کی عضلاتی صحت بری طرح متاثر ہوئی۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ کیس نہ صرف طب کے میدان میں ایک نئی تحقیق کا آغاز بن سکتا ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک سنجیدہ تنبیہ بھی ہے کہ منشیات کا استعمال کس حد تک جسمانی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
اس رپورٹ نے صحت کے ماہرین اور عوامی حلقوں میں منشیات کے خلاف شعور بیدار کرنے کی نئی ضرورت کو اجاگر کیا ہے، اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ منشیات کے نقصانات صرف ذہنی یا وقتی نہیں، بلکہ جسمانی ساخت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔






