صحت

پلاسٹک کا زہریلا اثر: ہر سال لاکھوں افراد دل کی بیماریوں کا شکار، نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

نیویارک – روزمرہ استعمال کی پلاسٹک اشیاء، جیسے پانی کی بوتلیں، کھانے کی پیکیجنگ، شیمپو کی بوتلیں اور بچوں کے کھلونے، اب صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی مہلک ثابت ہو رہی ہیں۔ ایک نئی عالمی تحقیق کے مطابق یہ عام پلاسٹکس ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی دل کی بیماریوں سے موت کا باعث بن رہے ہیں۔

معروف سائنسی جریدے ای بائیو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2018 میں صرف 55 سے 64 سال کی عمر کے افراد میں 368,764 دل کے امراض سے ہونے والی اموات میں ان پلاسٹک کیمیکلز کا 13 فیصد تک کردار تھا۔ یہ مواد اکثر کھانے پینے کی اشیاء کی پیکیجنگ اور کاسمیٹکس میں پایا جاتا ہے۔

نیو یارک یونیورسٹی گراسمین اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ایسوسی ایٹ ریسرچ سائنسدان، سارہ ہیمن نے کہا، "ہماری تحقیق دنیا بھر میں پلاسٹک اور دل کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق ظاہر کرتی ہے، جو انسانی صحت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔”

تحقیق کے مطابق، پلاسٹک سے متعلقہ اموات میں سے تقریباً 75 فیصد ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں، جن میں ایشیا، مشرق وسطیٰ اور بحر الکاہل کے علاقے شامل ہیں۔ جبکہ مجموعی اموات میں سے تقریباً 10 فیصد صرف امریکا میں رپورٹ ہوئیں۔

مطالعہ کے مرکزی مصنف اور گروسمین اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر لیونارڈو ٹراسانڈے کا کہنا تھا، "ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک ایک ترقی یافتہ ممالک کا مسئلہ ہے، لیکن ہمارے جغرافیائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے نتائج نہایت پریشان کن ہیں۔”

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پلاسٹک کی موجودگی اور اس کے کیمیکل اثرات پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ دہائیوں میں دل کی بیماریوں سے اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button