سائنس ٹیکنالوجی

دماغ کا خود کو کھا جانا؟ نیند کی کمی اور تناؤ سے جڑی چونکا دینے والی حقیقت

کراچی: یہ سن کر حیرت ضرور ہوگی، مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مخصوص حالات میں انسان کا دماغ "اپنے آپ کو کھانا” شروع کر دیتا ہے۔ جی ہاں! یہ محض کوئی تشبیہ نہیں، بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے جسے "آٹوفیجی” (Autophagy) یا "نیورونل سیلف-ڈیگریڈیشن” کہا جاتا ہے۔

یہ عمل تب سامنے آتا ہے جب دماغ کو نیند، غذائیت یا ذہنی سکون نہ ملے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص نیند کی کمی کا مسلسل شکار ہو تو دماغ کے اندر موجود کچھ خلیے، جنہیں ایسٹرو سائٹس (astrocytes) کہا جاتا ہے، صحت مند دماغی خلیوں کو بھی تباہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی دماغ خود ہی اپنا نقصان کر رہا ہوتا ہے۔

اسی طرح، الزائمر جیسی بیماریاں دماغی خلیوں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں، جہاں نیورونز آپس میں جڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں، جس سے یادداشت اور سوچنے کی طاقت متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، شدید ذہنی دباؤ یا غذائیت کی کمی بھی دماغ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں دماغ کے مائیکروگلیا (microglia) خلیے خود اپنے نیورونز کو توڑ کر توانائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دلچسپ مگر پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ نیند کی مسلسل کمی دماغ میں خود تلفی کے عمل کو تیز کر دیتی ہے، جو مستقبل میں الزائمر جیسی بیماریوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی صحت کے لیے مکمل نیند، متوازن غذا اور ذہنی سکون بے حد ضروری ہیں۔ وقت پر آرام نہ کرنا صرف تھکن کا باعث نہیں، بلکہ آپ کے دماغ کے لیے خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button