آج کے کالمزکالمز

شہباز شریف اگر سوچیں تو اس سے قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری

شہباز شریف ایک منتظم کے طور پر پنجاب کی وزرات اعلیٰ کے اپنے ادوار سے شہباز سپیڈ کے طور پر جانے جاتے تھے اور اب وزیراعظم کے طور پر ابھی تک منتظم کے طور پر حکومت کے معاملات درست سمت میں ضرور ہیں لیکن اب شہاز شریف کو اپنا سفر آگے بڑھانا ہے وہ ملک میں متنازعہ انتخابات کے بعد ایک درست انتخاب تھے اس کے لیے انہیں عوام کی سوچ کے مطابق آگے بڑھنے اور ملک کی بہتری اور عوامی شعور کی بڑھتی ہوئی لہر کو مطمئن کرنے کا وقت ہے اس ملک کے 97 فیصد عوام کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں وہ ان چند اخراجات کے لیے کمانے میں زندگی گزراتے ہوئے زندگی کی بازی ہار دیتے ہیں ۔

بجلی،گیس،پٹرول،تعلیم،علاج ،سفر،گھر،گاڑی یہ وہ بنیادی ضرورتیں ہیں جن پر ہر شخص اپنے پورے خاندان سمیت اخراجات پورے کرنے میں جتا رہتا ہے بد قسمتی سے ملک میں مڈل کلاس کا خاتمہ ہو چکا اب ملک کے 3 فیصد اور دوسرے 97 فیصد بس یہ ہی دو طبقے باقی رہ گئے ہیں اور ان فیصد میں سرکاری ملازموں کا وہ درجہ بھی شامل ہے جو اس ملک کے فیصلے پالیسیز اور قوانین بناتے اور ملک کو چلانے اور سیاسی رہنمائوں کو بھی اپنے ساتھ لے کے چلتے ہیں عمومی طور پر یہ گریڈ 17 کے اوپر کے سرکاری ملازمین ہیں پوری قوم جن اخراجات کو پورا کرنے پہ زندگی گزارتی ہے وہ ان تمام سرکاری ملازمین کے لیے بلکل مفت ہیںاور وہ اس غم سے آزاد ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اس ملک کے شہری یا انسان نہیں ہیں وہ آسمان سے اتری ہوئی کوئی مخلوق ہیں جو انکو گرم ہوا نہیں لگ سکتی ان کو ملک کے حالات کے تبدیل ہونے سے فرق نہیں پڑھ سکتا تو محترم وزیراعظم اللہ نے آپ کو ایک موقع دیا ہے افواج پاکستان کے سربراہ اس ملک کی بہتری کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے کر گزرنے کا تہیہ اور اس پر عملی اقدامات میں آپ کی مکمل معاونت کر رہے ہیں تحریک انصاف کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں جو کم بیش 1985 سے آج تک کے تمام بگاڑ صحیح یا غلط ہر فیصلے کے ذمہ دار ہیں وہ سب ایک ساتھ آپکی قیادت میں متنازعہ انتخابات کے بعد اقتدار میں ہیں وہ لوگ بھی وزیر ہیں جن کو لاہور کے ایک حلقے سے چند سو ووٹ ملے مگر وہ فارم47 پر جیتے مگر وقت گزر گیا اور حکومت بن گئی اور آپ اس کے سر براہ ہیں اور سب کو ساتھ لے کے چلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیںتو محترم ان سرکاری افسران کی ان تمام مراعات کو واپس لیں اور انہیں اسکے بدلے تنخواہ میں ان اخراجات کے لیے اضافی رقم کا اضافہ کر دیں تا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بے غم ہو کے ادا کرتے رہیں

جناب وزیراعظم اس ایک فیصلے سے ملک کے 100 فیصد عوام ایک ہی طرح سے ان اخراجات کو برداشت اور بچتوں کا تعین کرنے میں ایک جیسے ہوں گے اور سب کو اخراجات کرنے میں احساس ضرور ہو گا اور عوام پر ان میں اضافہ کرتے ہوئے تکلیف ہو گی اور ان پر اس نوازشات کے خاتمہ آپ کو عوامی وزیراعظم بنا دے گا اور ملک کے عوام کی رائے میں تبدیلی بھی ہوگی کے ملک کے مالک عوام ہیں مخصوص طبقہ نہیں اور آپ کے اس اقدام سے ان اخراجات کا نا جائز استعمال فوری طور پر رک جائے گا جو ملک کے ایک بوجھ کو کم کرنے اور ایک طبقے کو احساس ذمہ داری کا احساس بھی دلائے گا اور ان کو بھی اخراجات کرنے سے پہلے اپنے بجٹ کا اندازہ ہو گا پھر وہ اے سی چلتے نہیں چھوڑ کے جائیں گے پھر وہ ایک کے بجائے 10 گاڑیاں زیر استعمال لا سکیں گے پھر انکے ملازمین سرکاری گاڑیوں میں فراٹے بھرتے نہیں پھریں گے اور گھروں کو 50 کنال کے رقبے میں نہیں رکھ سکیں گے ہسپتالوں سے بھی بچنے کی کوشش کریں گے کیونکہ اب بل سرکار نہیں دے گی اس طرح کے اقدامات سمبل ہوتے ہیں محترم وزیراعظم آپ عوام کے لیے ہی سوچتے ہیں ان تمام سرکاری گھروں کو نیلام کر دیں اور قوم کی بہتری کے لیے چند اچھے ہسپتال اور تعلیمی ادارے تفریحی منصوبے اور ریسرچ اور آٹیفیشل انٹیلجنس کو آگے بڑھانے کے ادارے قائم کریں اور آئی ٹی ایکسپورٹ پر توجہ دیں اور روزگار کے زرائع بڑھائیں دنیا بھر میں موجود اپنے کامرس اتاشیوں کو جگائیں کہ کس ملک میں کیا کیا جا سکتا ہے اور اب تک کیوں نہیں ہوا تو محترم ان کو بھی علم ہوگا کہ وہ یہاں صرف ڈالروں میں تنخواہیں لینے نہیں آئے خدمت کرنے آئے ہیںاور انہیں کرنی پڑے گی اور اگر ممکن ہو تو یہ جو ملک کے ٹائیکون ہیں ان کو کہیں ان کامرس کے کمرشل اتا شیوں کے بارے میں بھی آپ کو رائے دیں کہ وہ کرتے کیا ہیں وقت آگیا ہے کہ آپ آگے بڑھیں اور جیسے بھی ہو صرف عوام اور اس ملک کے لیے کچھ کر گزریں۔

ہم سب کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ریاست کے مکینوں کو آسانیاں پیدا کرنا ہے اور بجلی کی قیمت کم کرنا بہتر فیصلہ مگر ابھی بہت مشکلات ہیں لوگوں کی انکم سے زائد بل لوگوں کی نفرت کو جنم دیتا ہے بہت سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں غریبوں کے روزگار کے ذرائع پیدا کئے جا سکتے ہیں اور عوام کو یہ یقیں دلایا جا سکتا ہے کہ ریاست ماں ہے اور آپ کا اسی طرح خیال رکھے گی جیسے ماں رکھتی ہے آپ کے ہر دکھ اور سکھ میں ساتھ کھڑی ہوگی اور آپ کو ن لیگ نہیں پاکستان کے عوام کی خدمت کرنی ہے اور سب کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ آپ اس کے بھی وزیراعظم ہیں آج تک ہمارے سیاسی رہنمائوں نے اپنے آپ کو اپنے سیاسی مفادات سے ہٹ کہ عوام کو یقین نہیں دلایا ایسے عمل نہیں کئے جس طرح اس بار اعزارت ہلال امتیاز سے لوگوں کو نوازاگیا ہے وہ سوالیہ نشان رہے گا ان پر سوچئے گا تو عمل کرنے میں آسانی ہوگی اور آپ کی اور ن لیگ کی سیا سی ساکھ میں اضافہ ہوگا کوئی تو ہو جو آغاز کر ے تو آپ کیوں نہیں بسم اللہ کریں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button