کراچی: پی ایس ایل کا امیج صاف رکھنے کے لیے سخت پالیسی تیار
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا چہرہ صاف اور شفاف رکھنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ نئی ٹیموں کے معاہدوں میں سٹے، جوئے یا کسی بھی ممنوعہ اشیا کی تشہیر پر واضح پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ سیروگیٹ ایڈورٹائزنگ کی بھی کسی صورت اجازت نہیں ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق ماضی میں بعض پی ایس ایل فرنچائزز کی جانب سے سیروگیٹ ایڈورٹائزنگ دیکھنے میں آئی تھی، جس میں جوئے سے وابستہ کمپنیاں نام میں معمولی تبدیلی کر کے اپنی تشہیر کرتی تھیں۔ چند سال قبل ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے اس عمل کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ایک پی ایس ایل میچ کے دوران متنازع اسپانسر کا لوگو شرٹ پر اسٹیکر کے ذریعے چھپا دیا تھا۔ بعد ازاں حکومتی سخت ایکشن کے نتیجے میں لیگ میں سیروگیٹ ایڈورٹائزنگ کا سلسلہ رک گیا تھا۔
اب پی سی بی نے مستقبل میں ایسی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹورنامنٹ کا امیج متاثر نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق نئی فرنچائزز کے معاہدوں میں واضح طور پر درج ہوگا کہ الکوحلک مشروبات، تمباکو، سٹے، جوئے یا کسی بھی ممنوعہ اشیا کی تشہیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ حکومتی پالیسی، مذہبی اقدار یا ثقافتی حساسیت کی خلاف ورزی کرنے والے اشتہارات سے بھی مکمل اجتناب لازم ہوگا۔
مزید یہ کہ ہر ٹورنامنٹ کے پہلے میچ کی مقررہ تاریخ سے 60 روز قبل فرنچائز کو واجب الادا فیس کا 75 فیصد جمع کرانا ہوگا، جبکہ باقی 25 فیصد رقم ٹورنامنٹ کے آغاز سے ایک دن پہلے تک ادا کرنا لازمی قرار دیا






