عالمی کرکٹ کے افق پر نئے ستارے جگمگانے کے لیے تیار ہیں، انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کا میلہ آج سے سج رہا ہے۔ زمبابوے اور نمیبیا مشترکہ طور پر اس میگا ایونٹ کی میزبانی کر رہے ہیں، جہاں 16 ٹیمیں 50 اوورز کے فارمیٹ میں ایکشن میں نظر آئیں گی۔
تفصیلات کے مطابق ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ کوئنز اسپورٹس کلب بولاوایو میں بھارت اور امریکا کے درمیان کھیلا جائے گا۔ اسی روز زمبابوے اور اسکاٹ لینڈ کی ٹیمیں تاکاشنگا اسپورٹس کلب ہرارے میں آمنے سامنے ہوں گی، جبکہ تنزانیہ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان مقابلہ ایچ پی اوول، نمیبیا میں ہوگا۔
گروپ مرحلے میں 10 دن کے دوران مجموعی طور پر 24 میچز کھیلے جائیں گے۔ زمبابوے میں کوئنز اسپورٹس کلب، ہرارے اسپورٹس کلب اور تاکاشنگا اسپورٹس کلب میچز کی میزبانی کریں گے، جبکہ نمیبیا میں ونڈہوک کا نمیبیا کرکٹ گراؤنڈ اور ایچ پی اوول مقابلوں کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔
گروپ مرحلے کے بعد سپر سکس مرحلہ دونوں ممالک میں ہوگا، تاہم سیمی فائنلز اور فائنل مکمل طور پر زمبابوے میں کھیلے جائیں گے۔ سیمی فائنلز 3 اور 4 فروری کو جبکہ فائنل 6 فروری کو ہرارے میں منعقد ہوگا۔
دفاعی چیمپئن آسٹریلیا ایک بار پھر ٹائٹل کے دفاع کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ ٹورنامنٹ میں 16 ٹیمیں شریک ہیں، جن میں گزشتہ ایڈیشن کی مضبوط ٹیموں کے ساتھ چند حیران کن نام بھی شامل ہیں۔ تنزانیہ پہلی بار کسی عالمی کرکٹ ایونٹ میں شرکت کر رہا ہے، جس نے افریقی کوالیفائرز میں تمام پانچ میچز جیت کر نمیبیا، کینیا اور نائیجیریا کو پیچھے چھوڑا۔
جاپان نے ایسٹ ایشیا پیسیفک کوالیفائر جیت کر دوسری بار انڈر 19 ورلڈ کپ میں جگہ بنائی، جبکہ افغانستان، اسکاٹ لینڈ اور امریکا بھی کوالیفائنگ مرحلوں سے گزر کر ایونٹ میں شامل ہوئے۔
ورلڈ کپ میں ٹیموں کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں آسٹریلیا، آئرلینڈ، جاپان اور سری لنکا شامل ہیں۔ گروپ بی میں بنگلہ دیش، بھارت، نیوزی لینڈ اور امریکا موجود ہیں۔ گروپ سی میں انگلینڈ، پاکستان، اسکاٹ لینڈ اور میزبان زمبابوے شامل ہیں، جبکہ گروپ ڈی افغانستان، جنوبی افریقہ، تنزانیہ اور ویسٹ انڈیز پر مشتمل ہے۔
ہر گروپ کی ابتدائی تین ٹیمیں سپر سکس مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جہاں گروپ مرحلے کے نتائج آگے منتقل ہوں گے۔ سپر سکس کے بعد ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنلز میں جگہ بنائیں گی، جبکہ گروپ مرحلے میں آخری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں پوزیشنز میچز کھیلیں گی۔
اس ایونٹ میں ٹی وی امپائر کی سہولت موجود ہوگی، تاہم ڈی آر ایس کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ انڈر 19 ورلڈ کپ کا آغاز 1988 میں ہوا تھا اور 1998 سے اسے دو سالہ بنیادوں پر باقاعدہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ بھارت ایونٹ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے جس نے 5 مرتبہ ٹرافی جیتی، آسٹریلیا 4 بار چیمپئن بن چکا ہے، جبکہ پاکستان نے 2004 اور 2006 میں یہ اعزاز اپنے نام کیا۔
ماضی میں یہی ایونٹ برائن لارا، سچن ٹنڈولکر، ویراٹ کوہلی، اسٹیون اسمتھ، کین ولیمسن، روہت شرما، سرفراز احمد، جو روٹ اور ڈیوڈ وارنر جیسے عظیم کھلاڑیوں کے عالمی کیریئر کا آغاز بنا۔
2026 کے ایڈیشن میں بھی کئی نوجوان کھلاڑی توجہ کا مرکز ہیں۔ 14 سالہ بھارتی اوپنر ویبھو سوریا ونشی کو جونیئر کرکٹ کا بڑا نام قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے اوپنر سمیر منہاس نے حالیہ انڈر 19 ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف 172 اور ملائیشیا کے خلاف 177 رنز بنا کر سب کی نظریں اپنی جانب مبذول کرائی ہیں۔
آسٹریلیا کے کپتان اولیور پیک ایک بار پھر ٹیم کی قیادت کریں گے، جن کے پاس انڈر 19 ٹرافی، بی بی ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ کا قیمتی تجربہ موجود ہے۔ پاکستانی فاسٹ بولر علی رضا کو بھی مستقبل کا اسٹار سمجھا جا رہا ہے، جبکہ جاپان کے اسپن بولنگ آل راؤنڈر چارلی ہارا ہنزے اپنی ٹیم کو پہلی کامیابی دلانے کے لیے پرعزم ہیں۔






