کھیل

پی ایس ایل کا لندن روڈ شو لارڈز میں چھا گیا؛ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دو نئی ٹیموں میں گہری دلچسپی

لندن: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا عالمی سطح پر سب سے بڑا روڈ شو انگلینڈ کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں شاندار انداز میں منعقد ہوا، جس نے گوروں کے دیس میں میلہ لوٹ لیا۔ اس منفرد تقریب نے نہ صرف کرکٹ شائقین بلکہ عالمی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی کھیلوں کی صنعت سے وابستہ اہم شخصیات کی بھرپور توجہ حاصل کی۔

تقریب میں غیر ملکی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، اسپورٹس انڈسٹری کے رہنماؤں اور بین الاقوامی میڈیا نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر پی ایس ایل کی اب تک کی کامیابیوں، مستقبل کے منصوبوں، لیگ کی عالمی توسیع اور ترقی کے لیے جاری اقدامات پر آفیشلز نے خصوصی بریفنگ دی۔

روڈ شو کے دوران سرمایہ کاروں نے پی ایس ایل 11 میں شامل کی جانے والی دو نئی ٹیموں کی خریداری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جسے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لیگ کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے پی ایس ایل لندن روڈ شو کی زبردست کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا اور سرمایہ کاروں، لارڈز اسٹیڈیم کی انتظامیہ اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا:

“پی ایس ایل اب صرف ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ نہیں بلکہ ایک عالمی اسپورٹس برانڈ ہے۔ دو نئی ٹیموں میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی دنیا بھر میں پی ایس ایل پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔”

محسن نقوی نے کہا کہ پی سی بی پی ایس ایل کو ایک بڑا انٹرنیشنل برانڈ بنانے کے لیے پرعزم ہے اور لندن میں منعقدہ یہ روڈ شو اس سفر کی اہم کڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ:

“لارڈز جیسے عالمی کرکٹ کے مرکز میں پی ایس ایل کا انعقاد پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ صرف پی سی بی کی نہیں بلکہ ایک پرامن، ترقی کی طرف بڑھتے اور کرکٹ سے محبت کرنے والے پاکستان کی پہچان ہے۔”

تقریب کے دوران پی ایس ایل کے گزشتہ سیزنز کی جھلکیاں، انٹرنیشنل اسٹارز کی شرکت، براڈکاسٹنگ، ڈیجیٹل اسٹریمنگ، اسٹیڈیمز اور اسپانسرشپ سے متعلق نئی حکمت عملی پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ عالمی سرمایہ کاروں نے پی ایس ایل کے شفاف نظام، مضبوط انفراسٹرکچر اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قدر کو سراہا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button