کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے معاہدے کی خلاف ورزی پر ملتان سلطانز کو معاہدے کی منسوخی کا نوٹس بھیج دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ملتان سلطانز کے مالک علی ترین کی جانب سے پی ایس ایل کے معاملات اور ایک آفیشل کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے کے باعث بورڈ کا صبر جواب دے گیا ہے۔
ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس پر لیگ کے اسٹرکچر اور انتظامات پر سوالات اٹھائے تھے، جس پر پی سی بی نے ابتدا میں خاموشی اختیار کی، تاہم اب بورڈ نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو گیارہویں ایڈیشن میں ملتان سلطانز نئی ملکیت کے تحت حصہ لے گی۔ پی سی بی نے فرنچائز معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے جائزہ لیا ہے اور ایک غیر ملکی کمپنی کو فرنچائز حقوق کی مالیت کا تعین کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، جو اپنے آخری مراحل میں ہے۔
ملتان سلطانز پاکستان سپر لیگ کی مہنگی ترین فرنچائز ہے جو سالانہ تقریباً سوا ارب روپے فیس ادا کرتی ہے، مگر مسلسل مالی نقصان اٹھا رہی ہے۔ اسی وجہ سے مالکان لیگ کے اسٹرکچر میں تبدیلی کے خواہاں ہیں، تاہم معاہدے کی شرائط کے تحت پی سی بی کسی ایک فرنچائز کی فیس کم نہیں کر سکتا کیونکہ اس سے پورے ایونٹ کی اہمیت متاثر ہوگی اور نئی ٹیموں کی فروخت بھی مشکل ہو جائے گی۔
اگر معاہدہ حتمی طور پر منسوخ ہوا تو ملتان سلطانز کے مالکان آئندہ فرنچائزز کی بولی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
تاریخی پس منظر میں، ملتان سلطانز 2017 میں پی ایس ایل کی چھٹی فرنچائز کے طور پر قائم ہوئی۔ شون پراپرٹیز نے اسے آٹھ سالہ معاہدے کے تحت خریدا تھا، مگر سالانہ فیس کی عدم ادائیگی پر پی سی بی نے اگلے ہی سال یہ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد بورڈ نے عارضی طور پر کھلاڑیوں اور کوچز کے معاہدے سنبھالے اور نئے مالکان کے لیے ٹینڈر جاری کیا۔ دسمبر 2018 میں عالمگیر خان ترین اور علی خان ترین نے ٹیم کے حقوق حاصل کیے، 2021 میں عالمگیر خان ترین واحد مالک بن گئے، اور 2023 میں ان کے انتقال کے بعد علی ترین نے دوبارہ ٹیم کی ذمہ داری سنبھالی۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن ورلڈ کپ کی وجہ سے روایتی تاریخوں میں نہیں ہو سکے گا اور امکان ہے کہ 2026 میں اپریل اور مئی کے مہینوں میں منعقد ہو، جس سے ایک بار پھر آئی پی ایل کے شیڈول سے ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہو گا۔






