لاہور (اسپیشل رپورٹر) — پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جیسے متحرک اور کامیاب کرکٹ ٹورنامنٹ کے انتظامی معاملات انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق سلمان نصیر کی زیر سربراہی لیگ کو پی سی بی سے الگ کرنے کا فیصلہ تو کر لیا گیا، لیکن اس کا کوئی عملی فائدہ تاحال سامنے نہیں آیا۔
فرنچائزز بے خبر، ویلیوایشن تعطل کا شکار
پی ایس ایل کی ویلیوایشن کا معاملہ کئی ماہ سے غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے باعث موجودہ ٹیموں کے معاہدوں کی تجدید بھی نہیں ہو سکی۔
آڈٹ فرم نے فرنچائزز سے تفصیلات مانگی تھیں جو مہیا کر دی گئیں، تاہم اس کے بعد کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
فرنچائز مالکان کا کہنا ہے کہ ان سے کسی قسم کا باضابطہ رابطہ نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث وہ مایوسی اور تشویش کا شکار ہیں۔
نئی ٹیموں کا ماڈل اور گیارہویں ایڈیشن کی تاریخ بھی غیر واضح
دو نئی ٹیموں کے اضافے سے متعلق بات چیت تو ہوئی، لیکن ابھی تک نہ ان کا ماڈل طے ہوا ہے نہ کوئی عملی قدم اٹھایا گیا ہے۔
پی ایس ایل 11 کے انعقاد سے متعلق بھی غیریقینی برقرار ہے — پہلے دسمبر میں لیگ کروانے کی تجویز تھی، پھر آئی پی ایل کے ساتھ اپریل-مئی میں کروانے کا خیال سامنے آیا، مگر حتمی اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔
اکاؤنٹس، ادائیگیاں اور اسپانسر شپ سب تعطل کا شکار
پی ایس ایل 10 کے اکاؤنٹس تاحال فائنل نہیں کیے جا سکے، جبکہ بعض اہم اسٹیک ہولڈرز نے اپنی ادائیگیاں بھی روک رکھی ہیں۔
ٹائٹل اسپانسرشپ کے 10 سالہ معاہدے کی توسیع التوا کا شکار ہے، اسی طرح گراؤنڈ اسپانسرشپ، براڈکاسٹ رائٹس، لائیو اسٹریمنگ اور پروڈکشن سمیت اہم تجارتی معاہدوں پر بھی کام شروع نہیں ہوا۔
سلمان نصیر کی مصروفیات اور ٹیم کی تشکیل پر سوالات
ذرائع کے مطابق سلمان نصیر اب بھی پی سی بی کے دیگر معاملات اور بین الاقوامی اسائنمنٹس میں مصروف ہیں۔ ایشیا کپ کے دوران وہ اے سی سی آفیشل کے طور پر متحرک نظر آئے۔
مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ اب تک اپنی مستقل ٹیم تشکیل نہیں دے سکے۔ دسویں ایڈیشن سے قبل ایک خاتون کو عارضی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا جو بعد ازاں مستقل ہو گئیں، تاہم ان کی کارکردگی اور افادیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فرنچائزز مایوس، سوالات کے جواب بھی نہیں ملے
متعدد فرنچائز حکام نے شکایت کی ہے کہ سلمان نصیر سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔
نمائندہ ایکسپریس کی جانب سے سلمان نصیر کو براہ راست اور میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ذریعے سوالات ارسال کیے گئے، انہوں نے جواب دینے کی یقین دہانی تو کروائی، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود جواب موصول نہیں ہوا۔
تجزیہ: پی ایس ایل کے مستقبل پر سوالیہ نشان؟
پی ایس ایل، جو کبھی پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی برانڈ سمجھی جاتی تھی، انتظامی غفلت اور تاخیر کا شکار ہو کر اپنا اعتماد اور رفتار کھو رہی ہے۔
اگر بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو نہ صرف فرنچائزز کا اعتماد مجروح ہوگا، بلکہ ناظرین، اسپانسرز اور کھلاڑیوں کا بھی نقصان ہو سکتا ہے۔






