لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے اور 20 وکٹیں حاصل کرنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔ عبوری ہیڈ کوچ اظہر محمود کے مطابق، قذافی اسٹیڈیم کی پچ اسپنرز کے لیے سازگار تو ہو گی، مگر ویسٹ انڈیز یا انگلینڈ جیسی تیز اسپن نہیں کرے گی۔
🇵🇰 اظہر محمود کا مؤقف:
جنوبی افریقہ ایک مضبوط ٹیم ہے، جو ٹیسٹ چیمپیئن شپ جیت چکی اور اس وقت عالمی رینکنگ میں نمبر 2 ہے۔
ہمارا مقصد صرف میچ جیتنا نہیں بلکہ ہر سیشن میں مسلسل بہتر کارکردگی دکھانا ہے۔
ہم نے ایسی حکمتِ عملی اپنائی ہے جو ہماری ٹیم کے لیے سازگار ہو، ہوم کنڈیشنز سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
محمد رضوان مین وکٹ کیپر ہوں گے، روحیل نذیر بطور بیک اپ اسکواڈ میں شامل ہیں۔
فائنل الیون کا فیصلہ پچ کی حالت اور موسم کو دیکھ کر میچ کے دن کیا جائے گا۔
قذافی اسٹیڈیم کی پچ اور تیاریوں کا جائزہ:
پچ آہستہ آہستہ ٹرن لے گی، اسپنرز کے لیے مددگار ہو گی۔
قومی ٹیم کی توجہ 20 وکٹیں لینے کی منصوبہ بندی پر مرکوز ہے۔
کوچنگ اسٹاف نے کھلاڑیوں کی فیلڈنگ، اسپن اور نئی گیند کے خلاف بیٹنگ پر خصوصی توجہ دی۔
ایشیا کپ کے بعد بیٹرز کی تکنیکی خامیوں پر کام کیا گیا، خصوصاً اسپن کھیلنے میں بہتری لانے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ دونوں کی بھرپور تیاریاں:
دونوں ٹیموں نے قذافی اسٹیڈیم میں تین گھنٹے طویل ٹریننگ سیشن کیے۔
مہمان ٹیم نے بیٹنگ اور اسپن بولنگ پر خصوصی توجہ دی، جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی جان لڑا دی۔
وارم اپ کے بعد مختلف ڈرلز، فٹنس اور ٹیکنیکل ورک پر کام کیا گیا۔
اسپنرز نے پچ کے دونوں اینڈز سے بولنگ کی تاکہ حقیقی میچ صورتحال میں خود کو ڈھال سکیں۔
یاد رہے:
پہلا ٹیسٹ 12 اکتوبر سے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شروع ہو رہا ہے۔ دونوں ٹیمیں سیریز میں برتری حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
کیا پاکستان اسپن کا جادو جگا پائے گا؟
کیا اظہر محمود کی قیادت میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقی بیٹنگ لائن کو دو بار آؤٹ کر کے برتری حاصل کرے گی؟ پہلا ٹیسٹ ایک بڑا امتحان اور موقع دونوں ثابت ہو سکتا ہے۔






