دبئی (13 ستمبر 2025) – پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف نے بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر مفصل تجزیہ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے گرین شرٹس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھنے کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راشد لطیف نے کہا کہ:
"پاکستان اور بھارت نے گزشتہ 10 سال کے دوران کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی۔ دونوں ٹیموں کا آمنا سامنا صرف آئی سی سی اور اے سی سی کے ایونٹس میں ہی ہوتا ہے۔”
انہوں نے اعدادوشمار پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ:
"گزشتہ ایک دہائی میں دونوں ٹیموں کے درمیان 15 میچز ہوئے، جن میں سے 12 میں بھارت کامیاب رہا۔”
جذبات، حکمت عملی اور فوکس — پاکستانی ٹیم کی کمزوریاں
راشد لطیف کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری دباؤ میں آ کر جذباتی فیصلے لینا، صبر کا مظاہرہ نہ کرنا، حکمت عملی سے کھیل نہنا اور فوکس کا فقدان ہے۔
"ہم ایک ہی وقت میں سب کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب کھیل ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔”
بھارتی ٹیم کا طریقہ کار مؤثر
راشد لطیف نے بھارتی ٹیم کی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا:
"بھارت حالات، پچ اور صورتحال کے مطابق کھیلتا ہے، اور یہی چیز انہیں برتری دلاتی ہے۔ گزشتہ 30 سالوں سے دباؤ پاکستان پر رہا ہے، اور بھارت اس کا بخوبی فائدہ اٹھاتا آیا ہے۔”
پاکستان کو کنڈیشنز کا فائدہ ہوگا؟
سابق کپتان کا ماننا ہے کہ:
"بھارت نے حالیہ عرصے میں کم ٹی20 کرکٹ کھیلی ہے، جبکہ پاکستان مشکل کنڈیشنز میں کھیلنے کا تازہ تجربہ رکھتا ہے، جو ممکنہ طور پر اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔”
یاد رہے کہ ایشیا کپ 2025 کے سب سے بڑے مقابلے میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اتوار، 14 ستمبر کو دبئی میں آمنے سامنے ہوں گی۔






