کالمز

’’قرضوں کا دریا، ترقی کے خواب اور قومی ذمہ داری کی سانسیں‘‘

تحریر۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
پاکستان کی معیشت کا دریا ہمیشہ ادھورا سا بہتا رہا ہے، کبھی اس میں پانی کی روانی تیز ہو جاتی ہے تو کبھی کنارے خشک ہو جاتے ہیں، کبھی دنیا کے بڑے ادارے اس پر بارش کے بادل برسا دیتے ہیں اور کبھی اندرونی کرپشن کی ریت ان لہروں کو جذب کر لیتی ہے، آج ایک بار پھر یہی منظر ہے ، ورلڈ بینک نے دس سال کے لیے چالیس بلین ڈالر کے وعدے کیے ہیں، بیس بلین حکومت کے ہاتھ میں قرض کی صورت میں، بیس بلین نجی سرمایہ کاری کی صورت میں، بظاہر یہ اعلان ایک بارش کی طرح ہے جس نے دریا کے مردہ پانی کو ہلا دیا ہے، لیکن کیا یہ بارش زمین کو سرسبز کرے گی یا صرف سیلاب کی طرح گزر جائے گی، آئی ایم ایف نے اپنی شرائط کے ساتھ ہمیں ایک ارب ڈالر دیا ہے، پھر ڈیڑھ ارب موسمیاتی پالیسی کے لیے منظور کیے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ عوام پر ٹیکسوں، بجلی اور گیس کی قیمتوں کا طوفان بھی ڈالا گیا ہے، یہ طوفان وہ ہے جس نے گھروں کے چراغ بجھا دئیے ہیں، جس نے دکانوں پر چھائی مسکراہٹیں چھین لی ہیں، جس نے مزدور کے چہرے پر پسینے کے ساتھ آنسو بھی بہا دئیے ہیں،

چین نے ساڑھے تین بلین ڈالر رول اوور کر دئیے ہیں تاکہ ہم فوری طور پر ڈوبنے سے بچ سکیں، لیکن رول اوور کا مطلب ہے کہ پرانی زنجیر کو نئی تاریخ کے ساتھ دوبارہ پہن لینا، یہ زنجیر بھلے وقتی سکون دے مگر یہ گردن کو آزاد نہیں کرتی، یہ سب سہارا ہے مگر زندگی نہیں، اصل زندگی تب آئے گی جب یہ قوم اپنے وسائل پر بھروسہ کرے گی، جب کسان اپنی زمین پر محنت کرے اور اسے بیج سے خوشبو ملے، جب مزدور کو اپنی اجرت وقت پر ملے، جب طالب علم کی ڈگری نوکری میں بدلے، جب ہسپتال میں مریض کو دوا ملے، اور جب ماں کو یقین ہو کہ اس کے بچے ایک محفوظ مستقبل میں سانس لے سکیں گے، مگر یہ سب تب ہوگا جب یہ پیسہ صحیح سمت میں بہے گا، اگر ورلڈ بینک کے چالیس بلین تعلیم اور صحت پر لگے تو یہ دریا سبز کھیتوں کو سیراب کرے گا، اگر آئی ایم ایف کے قرضے مالیاتی اصلاحات میں استعمال ہوئے تو یہ دریا بجٹ کے خسارے کو پْر کر دے گا، اگر چین کی سرمایہ کاری شفافیت سے مکمل ہوئی تو یہ دریا ہماری صنعتوں کو زندگی دے گا، لیکن اگر یہ سب کچھ کرپشن کے نالوں میں بہہ گیا، پروٹوکول کے تالابوں میں ڈوب گیا، یا سیاست کی دلدل میں گم ہو گیا تو یہ دریا مزید خشک ہو جائے گا اور سانسیں مزید کمزور ہو جائیں گی، قرض بذاتِ خود برائی نہیں ہوتا، برائی یہ ہے کہ قرض کو نشہ بنا لیا جائے، اور ہم دہائیوں سے اسی نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں، ہر حکومت آتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ ملک بچ گیا ہے

، لیکن عوام پوچھتے ہیں کہ ملک بچ بھی جائے تو عوام کب بچیں گے، معیشت کا اصل مقصد یہی ہے کہ عام آدمی کی زندگی آسان ہو، لیکن یہاں قرضے آتے ہیں تو زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے، ترقی کا اصل مطلب یہی ہے کہ مزدور کو عزت ملے، کسان کو قیمت ملے، نوجوان کو ہنر ملے، طالب علم کو کتاب ملے، مریض کو دوا ملے ، مگر ہم ترقی کو اعداد و شمار میں ڈھونڈتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے، کبھی کہتے ہیں کہ جی ڈی پی کا ہدف پورا ہو گیا، مگر عوام کے چولہے ٹھنڈے رہتے ہیں، قرضے صرف اس وقت نعمت ہیں جب وہ سانسوں کو سکون دیں، اگر وہ سانسوں کو مزید بے سکون کر دیں تو وہ نعمت نہیں رہتے، وہ عذاب بن جاتے ہیں، اور یہی عذاب اس قوم کی رگوں میں بہتا رہا ہے، آج کا لمحہ فیصلہ کن ہے، یا تو ہم اپنی سمت درست کریں گے یا پھر یہ دریا ہمیشہ کے لیے خشک ہو جائے گا، قومی ذمہ داری یہی ہے کہ ہم اپنے وسائل پر بھروسہ کریں، اپنی زراعت کو جدید بنائیں، اپنی صنعت کو زندہ کریں، اپنی تعلیم کو سرمایہ بنائیں، اپنے نوجوانوں کو روزگار دیں ، ورنہ چاہے ورلڈ بینک کے چالیس بلین ہوں یا آئی ایم ایف کے ڈھائی بلین یا چین کے رول اوور، یہ سب محض وقتی سہارا ہیں ، اصل زندگی اور اصل ترقی ہماری اپنی محنت اور اپنی نیت سے آئے گی، یہ دریا یا تو ہمیں ساحل تک لے جائے گا یا ہمیں مزید گہرائیوں میں ڈبو دے گا، فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے پاکستان کی معیشت کی تاریخ دراصل ایک ایسے دریا کی تاریخ ہے جس کے دونوں کنارے ہمیشہ کمزور رہے

کبھی ایک طرف سیاسی بحران کا کٹاؤ لگتا ہے تو دوسری طرف معاشی بدانتظامی کی ریت بہا لے جاتی ہے، کبھی ایک طرف عالمی اداروں کے قرضوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے تو دوسری طرف عوام کی ہمت کمزور ہو جاتی ہے، یہ دریا بار بار بہنے کی کوشش کرتا ہے لیکن راستے میں ایسے بند باندھ دئیے جاتے ہیں جنہیں توڑنے کے لیے قربانی اور فیصلے دونوں کی ضرورت ہے، ورلڈ بینک کا چالیس بلین ڈالر کا اعلان اس دریا میں ڈالے جانے والا سب سے بڑا پتھر ہے، ایک پتھر جو اگر صحیح جگہ رکھا گیا تو بند کو سہارا دے گا اور اگر غلط سمت پھینک دیا گیا تو پانی کا بہاؤ مزید رک جائے گا، یہ چالیس بلین دس سالوں کا قصہ ہے مگر قوم کی زندگی کے لیے ایک لمحہ بھی قیمتی ہے، اگر یہ پیسہ تعلیم اور صحت کے میدان میں لگے تو ایک نسل کھڑی ہو جائے گی، اگر یہ روزگار کے مواقع پیدا کرے تو لاکھوں نوجوانوں کی سانسیں آسان ہو جائیں گی، اگر یہ ماحولیات اور توانائی پر خرچ ہو تو آنے والی نسلیں سانس لے سکیں گی، لیکن اگر یہ سب کچھ صرف بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے یا کرپشن کی نالیوں میں بہانے کے لیے استعمال ہوا تو یہ بھی صرف ایک کہانی رہ جائے گی، ایک ایسی کہانی جو پہلے بھی بار بار لکھی گئی اور بار بار بھلا دی گئی۔

آئی ایم ایف کی شرائط ہر بار اس قوم کو نئے امتحان میں ڈالتی ہیں، کبھی بجلی کے بل بڑھا کر، کبھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے، کبھی روپے کی قدر کو گرنے دے کر، یہ سب کچھ عوام کی جیب پر بوجھ بنتا ہے، عوام جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہے، سوچتی ہے کہ ہم کب تک قربانی دیں گے ، ہم کب تک اپنے بچوں کی ضرورتیں قربان کریں گے، ہر حکومت کہتی ہے کہ یہ بوجھ وقتی ہے مگر یہ وقتی بوجھ دائمی بن چکا ہے، یہ وہ زنجیر ہے جو ہر بار نئی تاریخ کے ساتھ گلے میں ڈال دی جاتی ہے، چین کا رول اوور قرض بھی یہی ہے، ایک پرانی زنجیر جس پر نیا رنگ چڑھا دیا گیا ہے، یہ ہمیں وقتی طور پر سہارا ضرور دیتا ہے لیکن آزادی نہیں دیتا، چین کے منصوبے اگر شفاف ہوتے تو آج سی پیک واقعی پاکستان کا معاشی انقلاب ہوتا ، لیکن بدانتظامی ، سیاسی اختلافات اور کرپشن نے اس انقلاب کو بھی ادھورا چھوڑ دیا ، اور اب یہ نئے قرض بھی اسی ادھوری کہانی کو مزید طویل بنا رہے ہیں ۔

ترقی کا مطلب صرف اعداد و شمار نہیں، ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں یا شرح نمو کے ہندسے بہتر ہو جائیں، ترقی کا مطلب یہ ہے کہ مزدور شام کو گھر لوٹے تو اس کے بچوں کی پلیٹ خالی نہ ہو، کسان صبح کھیت میں جائے تو اسے یقین ہو کہ اس کی فصل اس کے بیٹوں کو خوشحال کرے گی، ایک طالب علم یونیورسٹی میں بیٹھا ہو اور اسے یقین ہو کہ اس کی ڈگری نوکری میں بدلے گی، ایک مریض ہسپتال میں آئے اور اسے دوا ملے، ایک ماں اپنے بچوں کو دیکھے اور اسے یقین ہو کہ ان کا مستقبل محفوظ ہے، یہی ترقی ہے اور یہی قومی ذمہ داری ہے، ورنہ یہ سب قرضے محض وہ ریت ہیں جو دریا کے کناروں کو اور کمزور کر دیتے ہیں، اصل ذمہ داری یہی ہے کہ یہ پیسہ صحیح سمت میں بہے، اگر یہ دریا سبز کھیتوں کو سیراب کرے گا تو یہ قوم زندہ ہو گی، اگر یہ ریت میں جذب ہو گیا تو یہ قوم مزید پیاسی ہو جائے گی۔

قرض بذاتِ خود برا نہیں ہوتا، برا یہ ہے کہ قرض کو عادت بنا لیا جائے، جاپان نے قرض لیا مگر اپنی صنعت کھڑی کی، جرمنی نے قرض لیا مگر تعلیم کو ہتھیار بنایا، چین نے قرض لیا مگر ڈسپلن کو بنیاد بنایا، ہم نے قرض لیا مگر اسے کرپشن اور پروٹوکول میں بہا دیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم دوسروں کے در پر دستک دے رہے ہیں، اگر یہ سوچ نہ بدلی تو چاہے ورلڈ بینک کے چالیس بلین ہوں، آئی ایم ایف کے ڈھائی بلین ہوں یا چین کے رول اوور قرضے، یہ سب محض وقتی سانسیں ہیں، زندگی نہیں ہیں، سانسیں تو چل رہی ہیں مگر ڈوبتی جا رہی ہیں، ترقی کا دریا اسی وقت بہے گا جب ہم اپنے وسائل پر بھروسہ کریں گے، جب ہم اپنی زمین کو جدید ٹیکنالوجی سے سیراب کریں گے، جب ہم اپنے نوجوانوں کو ہنر اور روزگار دیں گے، جب ہم اپنی صنعت کو زندہ کریں گے، اور جب ہم اپنی تعلیم کو سب سے بڑی سرمایہ کاری بنائیں گے، ورنہ یہ دریا مزید سوکھ جائے گا اور ہماری سانسیں مزید ٹوٹتی جائیں گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button