کالمز

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر: ایک جرنیل، ایک بیانیہ، ایک نئی تاریخ

تحریر۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری

پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے آزمائشوں اور قربانیوں کی گواہ رہی ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے اپنے بیٹوں کو بارہا لہو کے چراغ جلانے پر مجبور کیا، اور یہ وہ قوم ہے جس نے ہر طوفان کا سامنا اپنے سینے پر کیا۔ وقت کے دھارے نے کئی بار پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی، کبھی دشمنوں کی سازشوں سے، کبھی اپنے ہی گھر کی نااتفاقی سے، کبھی عالمی طاقتوں کے دباؤ سے اور کبھی معیشت کی کمزوری سے۔ مگر اس قوم کی ایک عادت ہے کہ یہ شکست ماننے والی نہیں، یہ ہر بار گرنے کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر کھڑی ہوتی ہے۔

آج کا پاکستان ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔ وہ دوراہا جہاں دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں پاکستان کا ذکر ایک نئی سنجیدگی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ کبھی پاکستان کو ایک بحران زدہ ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن اب دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ پاکستان ایک فیصلہ کن ملک ہے اور اس نئے بیانیے کے پیچھے ایک نام ہے: فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ایک جرنیل، ایک بیانیہ، ایک نئی تاریخ۔
یہ سرخی محض الفاظ نہیں بلکہ حقیقت کا اعلان ہے۔ جنرل عاصم منیر کو واشنگٹن ٹائمز جیسے بڑے امریکی اخبار نے ‘‘nerves of steel’’ کہا۔ فولادی اعصاب کے مالک کا خطاب کسی عام فوجی کو نہیں دیا جاتا، یہ اعزاز صرف ان رہنماؤں کے حصے میں آتا ہے جنہوں نے وقت کے سب سے مشکل لمحوں میں اپنے اعصاب پر قابو رکھا ہو، جنہوں نے قوم کو امید دی ہو اور دشمن کو حیران کر دیا ہو۔ بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعے میں جب دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ پاکستان دباؤ میں آ جائے گا، جنرل عاصم نے اپنی قیادت اور حکمت عملی سے قوم کو وہ علامتی فتح دلائی جس نے دشمن کی ساری منصوبہ بندی خاک میں ملا دی۔
بھارت کے غرور کو توڑنے والی اس کامیابی نے پاکستان کے عوام کو یہ یقین دلایا کہ ہم صرف دفاعی پالیسی کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتے بلکہ اپنی عزت اور وقار کے ساتھ دنیا میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ فتح صرف سرحدوں پر نہیں تھی، یہ فتح سفارت کاری میں بھی تھی۔ دنیا کو پیغام ملا کہ پاکستان کو کوئی پس منظر میں نہیں دھکیل سکتا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب عالمی میڈیا نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان اب صرف ایک خطے کا ملک نہیں بلکہ ایک عالمی کھلاڑی ہے۔
ٹرمپ اور مودی کے تعلقات میں دراڑ پڑی تو دنیا کو اندازہ ہوا کہ جنوبی ایشیا کی سیاست بدلنے والی ہے۔ لیکن اس موقع کو حقیقت میں بدلنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ جنرل عاصم نے یہ کر دکھایا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بحال کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون کے ساتھ رابطے قائم کیے۔ وہ تعلقات جو برسوں سے سرد مہری کا شکار تھے، ایک بار پھر اعتماد کی بنیاد پر کھڑے ہوئے۔ ایبی گیٹ بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری پر ٹرمپ نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا، اور یہ لمحہ پاکستان کے وقار کی ایک نئی سطح تھا۔
یہاں سے پاکستان کی سفارت کاری کو بھی ایک نئی زندگی ملی۔ وزیرِ خارجہ نے امریکی ہم منصب سے ملاقات کی، یورپی یونین کے نمائندوں سے بات کی، مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے کیے۔ ہر ملاقات میں ایک ہی پیغام دیا گیا: پاکستان خطے کا فیصلہ کن کھلاڑی ہے۔ یہ وہ تبدیلی تھی جس کا ہم دہائیوں سے انتظار کر رہے تھے۔

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر: ایک جرنیل، ایک بیانیہ، ایک نئی تاریخ۔ یہ الفاظ یہاں دوبارہ اس لیے آتے ہیں کہ بیانیہ صرف فوجی قیادت کا نہیں بلکہ قومی وقار کا ہے۔ یہ بیانیہ صرف سفارت کاری کا نہیں بلکہ عوامی طاقت کا ہے۔
پاکستان کے عوام اور نوجوان اس نئے بیانیے کا اصل سرمایہ ہیں۔ حال ہی میں ایک پاکستانی طالبہ نے 32اے گریڈز حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا ۔ یہ وہ پاکستان ہے جسے کبھی تعلیمی لحاظ سے کمزور کہا جاتا تھا، مگر آج ہمارے بچے عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان انجینئرز اور سائنسدان دنیا کی بڑی کمپنیوں میں بیٹھ کر پاکستان کا پرچم لہرا رہے ہیں۔ ہماری آئی ٹی انڈسٹری تیزی سے ابھر رہی ہے۔ دنیا کی بڑی ایکسپوز میں پاکستانی اسٹارٹ اپس نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ معاشی اور ٹیکنالوجیکل طاقت بھی بننے جا رہا ہے۔
کھیلوں کے میدان میں بھی نوجوان پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ چاہے کرکٹ ہو، سکواش ہو یا ای سپورٹس، ہر جگہ پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ وہی جذبہ ہے جو ہماری تاریخ کی اصل روح ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے وسائل، خصوصاً ریکوڈک کے ذخائر اور ابھرتی ہوئی کرپٹو مارکیٹ کو مستقبل کی طاقت قرار دیا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے پاکستان اگر صحیح سمت میں استعمال کرے تو اپنی معیشت کو دنیا کے لیے ایک مثال بنا سکتا ہے۔
یہ کامیابیاں ایک مسلسل بہتے دریا کی طرح ہیں۔ ایک ایسا دریا جو قربانیوں کے پہاڑوں سے نکلا، امید کے میدانوں سے گزرا اور اب ایک ایسے سمندر کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں پاکستان کی عزت، وقار اور طاقت کا پرچم پوری دنیا میں بلند ہوگا۔

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر: ایک جرنیل، ایک بیانیہ، ایک نئی تاریخ۔ یہ بیانیہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ کامیابی صرف ایک جرنیل کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔ وہ قوم جو اپنی قربانیوں پر فخر کرتی ہے، اپنے نوجوانوں کو سرمایہ سمجھتی ہے اور اپنی قیادت پر اعتماد کرتی ہے۔ آج دنیا ہمیں سن رہی ہے، تسلیم کر رہی ہے اور عزت دے رہی ہے۔ یہ لمحہ ہماری نسلوں کے لیے ایک نئے دور کی شروعات ہے۔
اگر ہم نے اس لمحے کو ضائع کر دیا تو یہ ہماری سب سے بڑی حماقت ہو گی۔ لیکن اگر ہم نے اپنی سیاست کو درست کیا، اپنی معیشت کو سنبھالا اور اپنی نوجوان نسل کو مواقع دئیے تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دنیا کی صفِ اول کی طاقتوں میں کھڑا ہو گا۔ یہ صرف خواب نہیں، یہ حقیقت بن سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنے اتحاد کو قائم رکھیں اور اپنی سمت کو درست کریں۔

یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ یہ کہانی ایک دریا کی طرح ہے جو بہتا جا رہا ہے، اپنے ساتھ قربانیوں کی خوشبو، خوابوں کی روشنی اور امیدوں کی لہریں لیے۔ اور اس دریا کے بیچوں بیچ ایک نام گونج رہا ہے: فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر: ایک جرنیل، ایک بیانیہ، ایک نئی تاریخ۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button