کرکٹکھیل

پاکستانی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان قریب، سخت معیار اور نئی پالیسی نافذ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) آئندہ چند روز میں قومی کرکٹرز کے لیے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان کرے گا۔ اس بار پی سی بی نے پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی ہے جس کے تحت صرف وہی کھلاڑی کنٹریکٹ کے اہل ہوں گے جو تینوں فارمیٹس (ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی) میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق، کوچز، ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر، فنانس اور انٹرنیشنل کرکٹ ڈپارٹمنٹ کی مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور حتمی منظوری چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے لی جانی ہے۔

کنٹریکٹ پالیسی میں اہم تبدیلیاں:

تینوں فارمیٹس میں مستقل کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ہی معاہدے دیے جائیں گے۔

سینٹرل کنٹریکٹس کی تعداد 25 سے بڑھا کر 30 کی جائے گی۔

ریٹینر بجٹ میں 37 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 1173.49 ملین روپے تک پہنچ چکا ہے۔

ممکنہ فائدہ اٹھانے والے کھلاڑی:

حسن نواز، محمد حارث، سفیان مقیم، حسن علی، فہیم اشرف، فخر زمان، حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد نواز، صاحبزادہ فرحان (زیر غور)

ممکنہ طور پر کنٹریکٹ سے باہر:

عامر جمال، محمد ہریرہ، حسیب اللہ، عثمان خان، محمد علی

گزشتہ سال کی جھلک:

گزشتہ سال بابر اعظم اور محمد رضوان اے کیٹیگری میں شامل تھے جبکہ شاہین شاہ آفریدی کو بی کیٹیگری میں منتقل کیا گیا تھا۔ فخر زمان اور سرفراز احمد کو کنٹریکٹ سے خارج کر دیا گیا تھا، جب کہ امام الحق، افتخار احمد اور فہیم اشرف کو بھی معاہدہ نہیں ملا تھا۔

تنخواہوں کی تقسیم:

A کیٹیگری: 65 لاکھ 70 ہزار روپے ماہانہ

B کیٹیگری: 45 لاکھ 52 ہزار 500 روپے

C کیٹیگری: 20 لاکھ 35 ہزار روپے

D کیٹیگری: 12 لاکھ 67 ہزار 500 روپے

آئی سی سی آمدنی میں کھلاڑیوں کا حصہ:

ذرائع کے مطابق، اس سال ممکنہ طور پر آخری بار کھلاڑیوں کو آئی سی سی کی آمدنی سے 3 فیصد حصہ دیا جائے گا، کیونکہ یہ معاہدہ اگلے سال ختم ہونے والا ہے۔

تجزیہ:

پی سی بی کی نئی پالیسی کا مقصد کارکردگی پر مبنی میرٹ کو فروغ دینا اور تینوں فارمیٹس میں توازن قائم رکھنا ہے۔ اس سے نوجوان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں جگہ بنانے کا موقع ملے گا، جب کہ مستقل کارکردگی نہ دکھانے والے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے محنت کرنی ہوگی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button