نئی دہلی (اسپورٹس ڈیسک) — بھارتی کرکٹ کے دو بڑے نام، ویرات کوہلی اور روہت شرما، جنہوں نے سالوں تک ٹیم انڈیا کو اپنی شاندار کارکردگی سے فتوحات دلائیں، حالیہ دنوں میں ٹیسٹ کرکٹ سے اچانک ریٹائر ہو گئے۔ ان کے اس غیر متوقع فیصلے نے نہ صرف شائقین کو حیران کر دیا بلکہ کرکٹ کے ماہرین بھی ششدر رہ گئے۔
تاہم اب سابق بھارتی آل راؤنڈر کرسن گھاوری نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جو بی سی سی آئی کی اندرونی سیاست پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔
"یہ ان کی اپنی مرضی نہیں تھی” — کرسن گھاوری
کرسن گھاوری نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ویرات اور روہت کی ریٹائرمنٹ ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ "بی سی سی آئی کے دباؤ” کا نتیجہ تھی۔ ان کے مطابق:
"ویرات کوہلی کم از کم دو سال اور ٹیسٹ کرکٹ کھیل سکتے تھے۔ لیکن بی سی سی آئی کے اندر کچھ ایسا ہوا جو عوام کے سامنے نہیں آیا، اور جس نے ان دونوں کھلاڑیوں کو ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور کیا۔”
الوداعی میچ نہ دینا بی سی سی آئی کی کوتاہی؟
کرسن گھاوری نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی سی سی آئی کی جانب سے ان کھلاڑیوں کو کوئی الوداعی میچ تک نہ دینا انتہائی افسوسناک بات ہے:
"ویرات اور روہت جیسے لیجنڈز ایک شاندار الوداعی میچ کے مستحق تھے، مگر انہیں خاموشی سے رخصت کر دیا گیا۔ یہ ان کے وقار کے ساتھ زیادتی ہے۔”
2027 ورلڈ کپ کا خواب چکنا چور؟
ذرائع کے مطابق، دونوں کھلاڑی جلد ہی ون ڈے کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر سکتے ہیں، جس سے یہ امکان ہے کہ 2027 ورلڈ کپ میں ان کی شرکت کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھارتی کرکٹ کو ایک بڑا خلا محسوس ہوگا۔
ویرات اور روہت — ایک شاندار عہد کا اختتام
ویرات کوہلی نے 302 ون ڈے میچز میں 14,181 رنز بنائے، جس میں 51 سنچریاں اور 74 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کی سب سے بڑی اننگز 183 رنز رہی۔
روہت شرما نے 272 میچز میں 11,168 رنز اسکور کیے، جن میں 32 سنچریاں اور 59 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کی 264 رنز کی اننگز آج بھی ون ڈے کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔
کیا بھارتی کرکٹ اپنے ہی ستاروں سے منہ موڑ رہی ہے؟
کرسن گھاوری کے انکشافات نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ کیا واقعی بی سی سی آئی اپنی اندرونی سیاست کی وجہ سے کرکٹ کے عظیم ترین ستاروں کو کنارے لگا رہی ہے؟ کیا ویرات اور روہت کو وہ عزت ملی جس کے وہ حقدار تھے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر کرکٹ شائق کے ذہن میں گونج رہے ہیں۔






