ارشد ندیم کے اولمپک گولڈ کو ایک سال مکمل: پاکستان کے لیے تاریخ ساز لمحے کی یاد تازہ
اسلام آباد (اسپورٹس ڈیسک) — پاکستان کے مایہ ناز جیولین تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم کے اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کو آج ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ 8 اگست 2024 کو پیرس اولمپکس میں انہوں نے 92.97 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ اولمپک ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پاکستان کو 40 سال بعد گولڈ میڈل دلایا تھا۔
یہ نہ صرف پاکستان کا چار دہائیوں بعد پہلا اولمپک گولڈ تھا بلکہ ارشد ندیم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انفرادی گولڈ میڈل جیت کر بھی ایک نیا باب رقم کیا۔
قومی ہیرو کی زبانی: "پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا”
اس تاریخی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا:
"پیرس اولمپکس میں میڈل جیتنے کے لیے میں بہت پُرعزم تھا۔ پاکستان کا جھنڈا جب اولمپک اسٹیڈیم میں بلند ہوا تو میرے لیے اس سے بڑا کوئی لمحہ نہیں تھا۔”
"جب وطن واپس آیا تو عوام، حکومت اور اداروں نے جس طرح عزت دی، وہ میرے لیے قابلِ فخر تھا۔ مجھے بے شمار انعامات اور دعائیں ملیں، جس پر میں سب کا شکر گزار ہوں۔”
اگلا ہدف: ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ اور اولمپکس 2028
ارشد ندیم نے بتایا کہ اس وقت ان کی تمام تر توجہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ پر مرکوز ہے، جس کی تیاری بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"میرا مقصد صرف میڈل جیتنا نہیں بلکہ ہر مقابلے میں پاکستان کی عزت اور پہچان بنانا ہے۔ جس طرح آپ سب نے اولمپکس کے لیے دعا کی، اب بھی دعا کریں۔ ان شاء اللہ 2028 کے اولمپکس میں بھی پاکستان کے لیے سب کچھ داؤں پر لگا دوں گا۔”
یادگار لمحہ، جو قوم کے دلوں میں زندہ رہے گا
ارشد ندیم کی یہ کامیابی صرف ایک میڈل جیتنے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک قوم کی امید، محنت اور حوصلے کی جیت تھی۔ ایک ایسا لمحہ جس نے پاکستان کو عالمی اسپورٹس کے نقشے پر فخر کے ساتھ کھڑا کر دیا۔






