لاہور (اسپورٹس ڈیسک) — سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے قومی ٹیسٹ ٹیم کی مسلسل گرتی ہوئی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی اہم وجوہات ناقص سلیکشن پالیسی اور کمزور ڈومیسٹک اسٹرکچر کو قرار دیا ہے۔
مقامی اسپورٹس پلیٹ فارم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آفریدی کا کہنا تھا کہ:
"نوجوان کھلاڑیوں کو بغیر مناسب تجربے کے قومی ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے، جو ایک بڑی غلطی ہے۔ صرف پی ایس ایل میں ایک یا دو اچھی اننگز کھیلنے پر کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر لینا درست حکمت عملی نہیں۔”
ٹیم تک رسائی کا معیار سخت ہونا چاہیے
آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے لیے کھیلنا ایک بڑا اعزاز ہے اور اس تک پہنچنے کا راستہ مشکل اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"قومی ٹیم کی نمائندگی آسان نہیں ہونی چاہیے۔ پہلے کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں خود کو منوانا چاہیے، تاکہ وہ اصل کرکٹ کی سختیوں سے گزر کر آئیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان شاہینز (اے ٹیم)، ڈومیسٹک لیگز اور فرسٹ کلاس کرکٹ وہ بنیادی مراحل ہیں، جن سے گزرنا ہر کھلاڑی کے لیے لازمی ہونا چاہیے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں مایوس کن کارکردگی
واضح رہے کہ 2023 سے 2025 تک جاری ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں پاکستان نے اب تک 14 میچز کھیلے ہیں، جن میں سے صرف 5 میچز میں کامیابی حاصل کی جا سکی ہے۔ یہ کارکردگی ناقدین اور سابق کرکٹرز کے لیے باعثِ تشویش بنی ہوئی ہے۔
شاہد آفریدی کا مؤقف ہے کہ جب تک سلیکشن کا عمل سخت اور نظام مضبوط نہیں ہوگا، پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں تسلسل کے ساتھ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔






