لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کی تیاریوں نے نیا زور پکڑ لیا ہے، اور امکانات ہیں کہ رواں سال کی طرح آئندہ ایڈیشن بھی اپریل اور مئی میں شاندار انداز میں منعقد ہوگا۔ اس بار بھی ایونٹ کا ٹکراؤ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے متوقع ہے، تاہم پی ایس ایل کی مقبولیت اور عالمی نشریاتی دلچسپی میں اضافے نے تمام خدشات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ایونٹ کا وقت تبدیل، مگر جوش کم نہیں!
آئی سی سی کے مصروف انٹرنیشنل شیڈول، خاص طور پر فروری-مارچ میں ٹی 20 ورلڈ کپ کی وجہ سے پی ایس ایل کو ایک بار پھر نئی ونڈو میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ممکنہ شیڈولنگ اپریل اور مئی میں رکھی گئی ہے، جس کے لیے زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز کو ری شیڈول کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ کو بھی اہمیت، نئی کمپنی، نیا ماڈل
پی ایس ایل کو ایک علیحدہ کمپنی کے طور پر رجسٹر کیا جا چکا ہے، اور سلمان نصیر بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ بورڈ کا مقصد اس ایونٹ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مزید مستحکم کرنا ہے۔ دسمبر اور جنوری میں ڈومیسٹک پینٹنگولر کپ کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ اسٹار کرکٹرز کا ایک اور پلیٹ فارم میسر آ سکے۔
فرنچائزز کی مضبوط پوزیشن، فیس میں اضافہ متوقع
پی ایس ایل کے 10 کامیاب ایڈیشنز کے بعد موجودہ 6 فرنچائزز کی ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اب ٹیم فیس میں 25 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ سب سے مہنگی فرنچائز "ملتان سلطانز” کے مستقبل پر سوالات ضرور ہیں، تاہم باقی ٹیموں نے ملکیت برقرار رکھنے کا تحریری عزم ظاہر کر رکھا ہے۔
دو نئی ٹیمیں؟ امکانات روشن لیکن حتمی فیصلہ باقی
پی سی بی کی جانب سے 11ویں ایڈیشن میں دو نئی ٹیموں کے شامل ہونے کا اعلان ہو چکا ہے، جس سے میچز کی تعداد 34 سے بڑھ کر 54 ہو جائے گی۔ اس سے نہ صرف براڈکاسٹ اور اسپانسرشپ ریونیو میں 30 فیصد تک اضافہ متوقع ہے بلکہ لیگ کی مارکیٹ ویلیو میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
معاشی اعتبار سے پی ایس ایل کا استحکام
گزشتہ سال پی ایس ایل سے حاصل ہونے والی مالی تفصیلات متاثرکن رہی ہیں:
ٹائٹل اسپانسر شپ: سالانہ 90 کروڑ روپے
لائیو اسٹریمنگ رائٹس: 1.8 ارب روپے
لوکل براڈکاسٹ رائٹس: 6.3 ارب روپے
انٹرنیشنل براڈکاسٹ: 4.6 ملین ڈالر
گراؤنڈ اسپانسر شپ: 2 ارب روپے
ٹی وی پروڈکشن معاہدہ: 2.25 ملین ڈالر سالانہ
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پی ایس ایل اب صرف ایک کرکٹ لیگ نہیں، بلکہ ایک مضبوط کاروباری اور برانڈ ویلیو بن چکی ہے۔
ٹائمنگ پر مشاورت جاری، فیصلہ عید کے بعد متوقع
پی ایس ایل گورننگ کونسل کو تمام معاملات پر مشاورت کے لیے عید کے بعد اجلاس متوقع ہے، جس میں ٹیموں، اسپانسرز، اور براڈکاسٹرز کی آراء کو شامل کیا جائے گا تاکہ ایونٹ کا حتمی شیڈول طے کیا جا سکے۔






