کرکٹکھیل

زخمی ہاتھ سے کریز پر واپسی: کرس ووکس نے سلیم ملک کی تاریخی قربانی کی یاد تازہ کر دی

لندن / فیصل آباد (اسپورٹس ڈیسک):
کرکٹ کے میدان میں حوصلہ، جذبہ اور ٹیم کے لیے قربانی کی مثالیں تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ حالیہ بھارت-انگلینڈ میچ میں کرس ووکس نے زخمی ہاتھ کے باوجود کریز پر آ کر شائقین کو 1986ء کے سلیم ملک کی یاد دلا دی، جب انہوں نے ٹوٹے ہاتھ کے ساتھ کریز پر قیام کر کے پاکستان کو ناقابل فراموش فتح دلائی تھی۔

فیصل آباد 1986: سلیم ملک کا عزم اور استقامت
1986 میں فیصل آباد میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں، ویسٹ انڈیز کے میلکم مارشل کی خطرناک گیند سلیم ملک کے ہاتھ پر لگی، جس سے ان کا ہاتھ زخمی ہو گیا۔
تاہم، اس تکلیف کے باوجود، سلیم ملک واپس کریز پر آئے اور وسیم اکرم کے ساتھ 32 قیمتی رنز کی شراکت قائم کی۔ انہوں نے 14 گیندوں پر صرف 3 رنز بنائے، لیکن 41 منٹ تک کریز پر کھڑے رہ کر ٹیم کے لیے قربانی دی۔

اس غیر معمولی عزم کے نتیجے میں پاکستان نے یہ میچ 186 رنز سے جیتا، اور سلیم ملک کی بہادری کرکٹ کی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھی گئی۔

2025: کرس ووکس کا جذبہ اور مثال
بھارت کے خلاف جاری میچ میں انگلینڈ کو 17 رنز درکار تھے جب زخمی فاسٹ بولر کرس ووکس، جن کا ہاتھ فریکچر کا شکار تھا، بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے۔
اگرچہ ووکس نے کسی گیند کا سامنا نہیں کیا، لیکن ان کا زخمی حالت میں میدان میں آنا ٹیم کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام تھا۔ دوسرے اینڈ پر موجود گس ایٹکنسن نے آخری کوشش کی، لیکن وہ محمد سراج کی گیند پر آؤٹ ہو گئے، اور یوں انگلینڈ کی ٹیم 367 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

بھارت نے یہ میچ 6 رنز سے جیت لیا، لیکن ووکس کے جذبے نے مداحوں کے دل جیت لیے۔

تجزیہ: وقت بدلا، مگر جذبہ وہی
کرکٹ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کرس ووکس نے اس موقع پر کوئی شاٹ نہیں کھیلا، لیکن ان کا زخمی حالت میں کریز پر آنا قربانی اور ٹیم اسپرٹ کی اعلیٰ مثال ہے۔
یہ لمحہ سلیم ملک کی تاریخی واپسی کی یاد دلاتا ہے، جب قومی فخر کے لیے درد برداشت کرنا بھی ایک بیٹنگ سے بڑھ کر اننگ ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button