لیڈز: بھارتی کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا جو اس کے مداحوں کے لیے یقیناً حیران کن ہے۔ پانچ سنچریوں کے باوجود بھارت کو انگلینڈ کے ہاتھوں 5 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ تاریخی مقابلہ 5 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کے دوران لیڈز کے میدان میں کھیلا گیا، جہاں بھارت نے دونوں اننگز میں مجموعی طور پر پانچ سنچریاں اسکور کیں لیکن پھر بھی میچ نہ جیت سکا۔ اس شکست کے ساتھ ہی بھارت ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ٹیم بن گیا جس نے ایک میچ میں پانچ سنچریاں بنانے کے باوجود شکست کھائی۔
اس سے قبل ایسا ہی ایک واقعہ 1929 میں پیش آیا تھا جب آسٹریلوی ٹیم نے چار سنچریوں کے باوجود شکست کا سامنا کیا تھا، لیکن پانچ سنچریوں کے باوجود ہارنے کا یہ پہلا اور منفرد ریکارڈ اب بھارت کے نام ہو چکا ہے۔
بھارت کی پہلی اننگز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم نے تین سنچریوں کی مدد سے 471 رنز بنائے۔ انگلینڈ نے جواب میں 465 رنز اسکور کیے اور مقابلہ انتہائی سخت ہوگیا۔ دوسری اننگز میں بھارتی بلے بازوں نے مزید دو سنچریاں اسکور کرتے ہوئے مجموعی اسکور 364 تک پہنچایا اور انگلینڈ کو 371 رنز کا ہدف دیا۔
تاہم انگلینڈ نے اعتماد اور مہارت کے ساتھ بلے بازی کرتے ہوئے یہ ہدف صرف 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ انگلش بیٹنگ لائن نے بھارتی باؤلنگ کو مؤثر انداز میں سنبھالتے ہوئے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔
بھارتی وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت اس میچ میں نمایاں رہے جنہوں نے دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کیں، تاہم ان کی انفرادی کارکردگی ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہ کر سکی۔
یہ میچ جہاں انگلینڈ کے لیے ایک بڑی کامیابی تھا، وہیں بھارت کے لیے کئی سوالات چھوڑ گیا — خاص طور پر باؤلنگ اٹیک کی کارکردگی پر۔






