اپنے گنڈا پور۔
تحریر۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ طارق سہیل
بلوچستان میں مرد اور عورت کے سر عام جرگہ جاتی قتل کے مجرموں کو بچانے کیلئے جرگہ بگوش ضرور حرکت میں آئیں گے، یہ پتہ تھا لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ اتنی جلدی آئیں گے اور ہوا یہ کہ اسی شام باپ پارٹی والا جرگہ صحافیوں کے سامنے نمودار ہوا اور بتایا کہ دونوں مرد عورت بدکار تھے، دونوں کے چار چار، پانچ پانچ بچے تھے۔ مطلب ٹھیک انصاف ہوا۔
باپ پارٹی کے دعوے کی تصدیق کوئی تفتیشی یا تحقیقاتی ادارہ ہی کر سکتا ہے یا پھر عدالت لیکن باب پارٹی تو خود ہی تحقیقاتی کمیشن بھی بن گئی اور خود ہی عدلیہ بھی۔ ادھر پولیس نے مرکزی ملزم (در حقیقت مجرم) ایک سردار کو گرفتار تو کر لیا لیکن اسے پروٹوکول یوں دیا جا رہا ہے جیسے وہ بلوچستان کا وزیر اعلیٰ ہو۔
باپ پارٹی کے دعوئوں کی تصدیق تردید ایک طرف، نفس واقع پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اور نفس واقعہ یہ ہے کہ دو افراد کو جرگے کی عدالت نے قتل کیا۔ جرگے کی عدالت درست ہے تو پھر نظام سے درخواست ہے کہ ایسی عدالت لگانے کا حق اور اختیار باقی عوام کو بھی دیا جائے تاکہ ہر جگہ فوری انصاف ہو سکے۔
علماء دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جنہیں علمائے معقول کہا جا سکتا ہے، دوسرے وہ جو علمائے ماتول کہلائے جانے چاہئیں۔ علمائے معقول نے مذکور قتل کی مذمت کی ہے، علمائے ماتول بتا رہے ہیں کہ بدکار تھے، مار ڈالے گئے تو کیا برا ہوا۔ ان علمائے ماتول کے اپنے اخلاقی کارناموں بلکہ کرتوتوں کے قصے بھی اِدھر اْدھر پھیلے ہوئے ہیں۔ سوچئے، ان اِدھر اْدھر والوں نے بھی اپنی عدالت لگالی تو۔
قصہ اس ایک وقوعہ پر محدود نہیں ہے۔ یہ واقعہ تو ویڈیو وائرل ہونے کی وجہ سے ’’لیجنڈ‘‘ بن گیا۔ پاکستان میں ہر سال کئی سو عورتیں اور بچیاں اسی ’’عزت‘‘ کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں اور کبھی کسی حکمران یا حکمران پارٹی کے عہیدار یا کسی اپوزیشن رہنما نے ایک لفظ بھی اس قتل عام کیخلاف نہیں کہا۔ گویا حکومت ہو یا اپوزیشن، نظام ہو یا انصافی ایوان، سبھی ایک پیج پر ہیں۔ خدا بھلا کرے بلاول بھٹو کا جس نے کم سے کم اس ایک واقعے پر زبان کھولی۔ خدا انہیں توفیق دے کہ ہر سال سینکڑوں کے حساب سے قتل ہونے والی عورتوں اور بچیوں کے بارے میں بھی کچھ کہیں۔
————
مرشدانی پارٹی نے سینٹ میں’’ایرے‘‘کو ٹکٹ نہیں دیا۔ ’’ایرے‘‘ نے کہا، ٹکٹ ملے نہ ملے، میں تو الیکشن لڑوں گا، مرشد کا جھنڈا اونچا رکھنا ہے۔ مرشدانی پارٹی نے ’’غیرے‘‘ کو بھی ٹکٹ نہیں دیا۔ غیرے نے کہا، ٹکٹ ملے نہ ملے، میں تو الیکشن لڑوں گا، مرشد کا جھنڈا اونچا رکھنا ہے۔ مرشدانی پارٹی نے ’’نتھو‘‘ کو بھی ٹکٹ نہیں دیا۔ ’’نتھو‘‘ نے کہا، جو بھی ہو، الیکشن لڑوں گا، مرشد کا جھنڈا اونچا کر کے رہوں گا۔ مرشدانی پارٹی نے ’’خیرے‘‘ کو بھی ٹکٹ نہیں دیا۔ ’’خیرے‘‘ نے بھی وہی بات کی جو ایرا، غیرا اور نتھو کر چکے تھے۔ چاروں نے ڈٹے رہنے کے عزم کا اعلان کیا، مرشد کا جھنڈا اونچا رکھنے کی ٹھان لی۔
پھر مرشدانی پارٹی نے چاروں سے کہا، بیٹھ جائوورنہ پارٹی سے نکال دیئے جائو گے۔ اس پر ایرے، غیرے اور خیرے کی ہوا سرک گئی، تینوں بیٹھ گئے، مرشد کے جھنڈے کو میدان ہی میں چھوڑ کر گھر آ گئے۔ نتھو پھر بھی ڈٹا رہا۔ کہا میں تو الیکشن لڑوں گا، دنیا اِدھر کی اْدھر ہو جائے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ مرشد کے جھنڈے کی عزت، بے عزتی کا سوال ہے۔
ووٹنگ ہوئی، نتھو کو صفر ووٹ ملا۔ مرشدانی پارٹی کے 92 ووٹ تھے، ایک نے بھی مرشد کے جھنڈے کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ نتھو کو صفر ووٹ ملا۔ یعنی نتھو صفر پر آئوٹ ہو گیا۔ یعنی کہ مرشد کا جھنڈا صفر پر آئوٹ ہو گیا۔
————
اے این پی کے ایمل ولی خاں نے شاندار الفاظ میں علی امین گنڈا پور کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی محنت سے وفاقی حکومت کو سینٹ میں دو تہائی اکثریت مل گئی، اب وہ اپنی مرضی کی آئینی ترمیم کر سکتی ہے۔
سچ ہے، مشکل وقت میں ’’اپنے‘‘ ہی کام آتے ہیں، حکومت کو دو تہائی اکثریت میں ایک ووٹ کی کمی تھی، ’’اپنے‘‘ نے پوری کر دی کل ایک جگہ حکومتی پارٹی کے کچھ لوگ جمع تھے، کوئی بھی وزیر اعلیٰ کے پی کو علی امین گنڈا پور نہیں کہہ رہا تھا، سبھی ’’اپنے گنڈا پور‘‘ کے نام سے یاد کر رہا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا اپنے گنڈا پور کتنے اچھے ہیں، کوئی اور بتا رہا تھا، اپنے گنڈا پور نے ابھی اور بھی اچھے اچھے کام کرنے ہیں۔
————
جنوبی شام میں قبائلی لشکر نے سویدا شہر میں دروزیوں کے ایک اسلحہ ڈپو پر قبضہ کیا ہے جس میں لا تعداد دوسرے ہتھیاروں کے علاوہ، سینکڑوں میزائل بھی موجود تھے۔
دروز علاقے میں اتنے زیادہ میزائل کس نے سٹور کئے؟ بات صاف ہو گئی کہ اسرائیل نے شام کے آزاد ہوتے ہی دروزی اتحادیوں کو ہتھیاروں کی سپلائی شروع کر دی تھی اور پچھلے ہفتے جو کچھ ہوا، اس کی تیاری پہلے سے پوری تھی۔ ظاہر ہے، یہ میزائل تب لائے گئے جب کوئی تشدد کا واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔
بہرحال، لڑائی جاری ہے اور کئی قصبات اور شہر دروزیوں کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔
————
خبر ہے کہ بجلی تقسیم کرنے والے ڈسکوز نے عوام سے 244 ارب کی اوور بلنگ کی یعنی اڑھائی کھرب کا ڈاکہ مارا۔ اس جیب تراش مافیا میں از قسم لیسکو، میپکو، فیسکو، سیپکو، ٹیسکو شامل ہیں۔ غریب عوام میں خودکشیاں ایسے ہی تو نہیں بڑھ گئیں۔ یہ فراخدلی قابل تعریف ہے۔ کسی نے پوچھا، عوام سے لوٹے گئے، اڑھائی کھرب واپس دلائے جائیں گے تو جواب ہے لاحوال ولا۔ گھی کھچڑی میں گیا، کھچڑی یاروں کے پیٹ میں اور یاروں کے پیٹ کون پھاڑتا ہے۔ مگر لاحول ولا قوۃ۔






