عشق لاہور ایک رومانوی داستان جو دلوں کو محسور کر دے
تحریر۔۔۔محمد اکرم چوہدری
ہمارے ایک دوست وحید صابر بہت صاحب علم اور علم کے ستونوں کے قدر دان بزرگوں اولیاء اللہ اور دنیا سے دور کے لوگوں کیساتھ رشتہ رکھنے والا اپنے آپ کو چھپا کر رکھنا اور گمشدہ رہنا ،بہترین انسان انیق احمد کے جگری دوست سامنے بیٹھ کے لاہور کے بارے میں وہ سب بھی سن لیتے ہیں جو ہم سے نہیں سنا جاتا تہذیب کا تصادم کہیں کہیں تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کر دیتا ہے کہ تہذیب کا بنیادی سبق ہوتا ہے کہ کسی کو دکھ نہ دو ۔وحید صابر لاہور کے بارے میں بہت کچھ کہتے اور لکھتے رہتے اور لاہور کے چاہنے والوں سے شیئر کرتے رہتے ہیں وہ ان لوگوں کے بھی رابطے میں رہتے ہیں جنہیں لاہور کی محبت لاہور کو چھوڑنے کے باوجود لاہور کو دل سے نکال سکے آج انہوں نے لاہور کے بارے میں تاریخی حوالے سے گفتگو کی آئیں ان ہی کی زبانی سنتے ہیں آج کل کے بھیگے بھیگے موسم میں لاہور کی سوندھی سونندھی خوشبو سے محصور ہوں یقین جانئے یہ جو زمانے کے دکھ ہیں بھول جائیں گے آپ اور لاہور کے حسن اور طرز تعمیر تہذیب تمدن رومانس باغات پرانا مال روڈ غلام عباس کو اوور کوٹ فیض کا شہر سعادت حسن منٹو کا 1955 کا ہال روڈ پر اپنے آپ کو رب کے حوالے کرنا یہ کہانیاں جاری رہیں گی بابا اشفاق احمدہوں جی بلاک ماڈل ٹاون کا قبرستان ان کو سمیٹ کے انکی یاد دلاتا ہے مختصر یہ کہ’’ لاہور لاہور اے باقی سب ہیر پھیر اے‘‘
شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی ؒ اپنے مرشد حضرت خواجہ باقی بااللہ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے تو روحانی اسباق کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں حکم دیا گیا کہ لاہور جائو اور کچھ عرصہ وہاں قیام کرو۔
اپنے ایک مکتوب ( جو کہ انہوں نے قلیچ خان اندجانی کے نام لکھا ) میں فرماتے ہیں : ’’فقیر کے نزدیک یہ شہر لاہور تمام ہندوستان کے شہروں میں قطب الارشاد کا درجہ رکھتا ہے ، اس شہر کی خیر و برکت تمام بلادِ ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے ،اگر اس شہر میں دین رواج پذیر ہوجائے تو باقی علاقوں میں بھی شعائر کا رواج محقق رہے گا ۔‘‘
لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم
جاں دادہ ایم و جنتِ دیگر خرید ہ ایم
کوئی زمانہ تھا جب دلی اور لکھنئو تہذیبی گہوارے کے طور پر مشہور تھے مگر اب وہ ایک گزری اور فراموش شدہ تہذیب کی علامت بن کر رہ گئے ہیں۔مگر لاہور ہمیشہ سے زندہ تھا اور آج بھی ایک ادبی اور تہذیبی دبستان کی حیثیت سے رس بس رہا ہے۔
اردو ادب کے تین لیجنڈ تخلیق کاروں کرشن چندر‘ راجندر سنگھ بیدی اور کنہیا لال کپور کے مطابق لاہور راوی کنارے ہی نہیں بستا مدتوں سے لوگوں کے دلوں میں بھی بستا آیا ہے۔ کبھی اسے جنتِ دیگر قرار دیا گیا اور کبھی ایسا شہر جس کے بارے میں کہنا پڑے کہ جو لاہور نہیں دیکھ سکا وہ دنیا میں آیا ہی نہیں۔ اردو کے دو بڑے فکشن نگاروں‘ کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی اور ایک اہم مزاح نگار کنہیا لال کپور نے بڑی محبت اور حسرت سے لاہور کا ذکر کیا ہے‘ 1947ء میں ان تینوں کو لاہور سے جدا ہونا پڑا اور واپس آنا نصیب نہ ہوا‘ اس کے باوجود لاہور ان کے دلوں میں ہمیشہ شاد و آباد رہا۔
سائے کی طرح مرے ساتھ رہے رنج و الم
گردش وقت کہیں راس نہ آئی مجھ کو
شہر لاہور تری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو
نامور ادیب مستنصر حسین تارڑ نے یہ بتا کر ہماری معلومات میں اضافہ کیا کہ انہیں انور سجاد نے بتایا تھا کہ جب وہ ہندوستان گئے اور بمبئی میں بیدی سے ملے تو یہ ان کے چل چلائو کا زمانہ تھا۔ بیدی نے ان سے کہا کہ ان کا لاہور جانے کو بہت جی چاہتا ہے‘ اس پر انور سجاد نے کہا کہ جم جم آئیں تو وہ بولے کہ اب لاہور میں مجھے کون پہچانے گا۔ انور سجاد نے جواب دیا کہ آپ آئیں تو سہی‘ لوگوں کی بڑی تعداد آپ کا سواگت کرنے کے لیے موجود ہوگی یہ سن کر بیدی زار و قطار رونے لگے۔
سحر برلن سے ہی پوچھو تو گواہی مل جائے
وہی سر مستی لاہور سدا یاد رہی
کنہیا لال کپور لکھتے ہیں: لاہور کا تصور کرتے ہی دل میں ایک ہْوک اٹھتی ہے ۔ اس شہر کو تو کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی نے بھی رہ رہ کر یاد کیا ہے جو یہاں سے نکلے تو پھر ہندوستان کے بڑے شہروں میں ان کا ٹھور ٹھکانہ رہا۔ کنہیا لال کپور کا معاملہ دونوں سے ہٹ کر ہوا اور موگا (بھارتی پنجاب) جیسی خشک اور علمی فضا کے اعتبار سے بے آب و گیاں زمین پر آباد ہو گئے۔ ان سے جب کوئی موگا جیسے بن میں جابسیرا کرنے کی وجہ پوچھتا تو وہ یہ کہہ کر دل کو تسلی دے لیتے کہ جب تک ہندوستان لاہور کا ثانی پیدا نہیں کرتا میرے لیے ہندوستان کے تمام شہر اور قصبے برابر ہیں۔
میرے درد کی شدت کو کم کیجیے
نام لاہور کا لیجیے اور دم کیجیے
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کرشن چندر‘ راجندر سنگھ بیدی اور کنہیا لال کپور لاہور کی یاد میں تڑپتے‘ سمساتے رہے مگر دوبارہ ان کا اس شہر میں پھیرا نہ لگا ۔ مجتبیٰ حسین کے مضمون سے بھی کپور کی لاہور سے محبت کا پتا چلتا ہے جو اْسے اس شہرِ بے مثال سے تھی۔ اْنکے بقول: دروغ بر گردنِ راوی ان کی لاہور سے محبت کا یہ عالم ہے کہ رات کو لاہور کی طرف پیر کر کے کبھی نہیں سوتے۔کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ جب یہ لاہور میں تھے تو نہ جانے کس طرح سو جاتے تھے۔ سنا ہے کہ موگا میں بھی لاہور ہی کے خواب دیکھتے ہیں۔ دہلی کو بڑی حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ انارکلی کی ایک جھلک پر سینکڑوں کناٹ پیلس قربان کیے جا سکتے ہیں۔
اْس پیڑ سے پنچھی روٹھ گئے اْس کا مْرجھانا اچھا تھا
راوی یہ روایت کرتا ہے لاہور پْرانا اچھا تھا
یوں تو پطرس بخاری نے لکھا تھا ”لاہور کے کاٹے کا علاج نہیں‘ یہ ہم سب کا معشوق ہے اور مرتے دم تک معشوق رہے گا۔‘‘ اور عصمت چغتائی ایک دو مرتبہ ہی یہاں آئیں، لیکن انہوں نے لکھا ”لاہور کتنا خوبصورت تھا۔ آج بھی ویسا ہی ہے، شاداب، قہقہے لگاتا ہوا۔ باہیں پھیلا کر آنے والوں کو سمیٹ لینے والا۔ ٹوٹ کر چاہنے والے بے تکلف زندہ دلوں کا شہرِ پنجاب کا دلِ لاہور کتنا سلونا لفظ ہے۔ لاہور کی فضا میں نور گھلا ہوا ہے
لاہور کے بارے میں پنجابی کی ایک کہاوت ہے ’’جنھے لاہور نہیں ویکھیا، وہ جمیا ای نئیں‘‘۔ یہ محاورہ دہلی پہنچتا ہے اور ہندی کا ایک ادیب اصغر وجاہت اس نام سے ہندی میں ڈرامہ لکھ دیتا ہے۔ خاصا دلچسپ ڈرامہ ہے۔ دیکھیے ناں، یہ لاہور کی شہرت ہی تو ہے جو ایک ہندی کے ادیب سے بھی ایسا ڈرامہ لکھوا لیتی ہے۔
ہم نے لاہور نہ آنے کی قسم کھائی تھی
وقت انسان کا ایمان بدل دیتا ہے
وحیدصابر آپ کو سلام محبت یاد لاہور سے جڑی محبتوں کا قرض باقی ہے کسی دن سپردقلم کر کے آپ کو لوٹا دوں گا دعا کی درخواست کیساتھ اس شہر سے جڑے رہیں حضرت علی ہجویری ( داتا گنج بخش) مادھو لال حسین ،میاں میر، بی بی پاک دامن کا شہر کبھی بنجر نہیں ہو سکتا اللہ کے نور کی روشنی کسی نہ کسی زریعے ہمیشہ برکات کیساتھ جاری رہے گی اور یہ شہر ایسے لوگوں کو جنم دیتا رہے گا جو اس کے اصل سے جڑے رہیں گے کاش کہ اس شہر کو لاہور بنا دے جہاںہر چیز کاروبار سے نہ جڑی ہو بلکہ محبتوں اور رفاقتوں کی امین ہو۔






