چینی قابو سے باہر مگر قصور وار سرکار
تحریر۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
کبھی وقت ہوتا تھا عوام اپنی دھرتی کو اپنی ماں سے تشبیہ دیا کرتے تھے شاید اس سے بھی بڑھ کے قدر کرتے تھے تار یخ کے اوراق اگر دیکھیں تو قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب میں لکھتے ہوئے ایک واقعہ بیان کر تے ہیں آپ بھی پڑھیں اور دھرتی سے محبت اور اسکی قدر اور احسا س ذمہ داری کو سمجھنے کی کو شش کریں اور پھر جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور وہ لوگ کہاں تھے کیا لوگ تھے اللہ اکبر
قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا "بیت المال کس طرف ہے؟
میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی” پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں۔ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں۔آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں
آج ہم دولت کے حصول کے لیے سب اصول قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ہمارے بس میں ہو تو کسی اصول اور قانون کو نہ مانیں،اب چینی کی صور ت حال پر غور کریں اور دیکھیں کہ غربت کا حکمران کیسے مذاق اڑا رہے ہیں پہلے ایکسپورٹ کروا کے مال بنوایا اب امپورٹ کرنے چلے ہیں جب عوام کی جیبیں خالی کروا لی ہیں کل کیوں ایکسپورٹ ہوئی کسی نے پوچھا نہ آج امپورٹ کیوں کرنی ہے کوئی پوچھنے والانہیں جب لٹیا لٹ جائے گی تو قصے کہانیاں ایک دوسرے پر الزامات کی نذر کر دیں گے اور پتہ ہی نہیں چلنے دیں گے کہ کیاہوا تھا تب تک کوئی نیا سکینڈل نئی کہانی منظر عام پر آ چکی ہوگی
ملک میں موجود چینی مافیا نے حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا ہے۔حکومت کی جانب سے چینی درآمد کے فیصلے کے باوجود قیمت میں ریکارڈ اضافہ، مختلف شہروں میں فی کلو قیمت ریکارڈ 2 سو روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔اسلام آباد، راولپنڈی میں چینی فی کلو 2 سو روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ جڑواں شہروں میں چینی کی فی کلو اوسطاً قیمت 196 روپے سے زائد ہے۔ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق شہر قائد میں بھی چینی کی فی کلو قیمت نے ڈبل سینچری مکمل کرلی، کراچی میں فی کلو چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2 سو روپے ہے، جبکہ اوسطاً فی کلو قیمت 192 روپے 54 پیسے ہے ۔ اسی طرح لاڑکانہ میں چینی کی فی کلو قیمت 195 روپے، جبکہ سیالکوٹ میں صارفین کیلئے چینی فی کلو 192 روپے میں دستیاب ہے ۔ یہ کوئی حتمی پرایس نہیںہے جس کا جدھر دائو لگتا ہے لگارہاہے اور کمائی کررہا ہے کسی کو کوئی اللہ کا خوف نہیں، اب اسکے بعد توقع رکھنا کہ چینی سستی بکے گی کمال ہے آپ انڈسٹری کے استعمال کے لیے چینی ان کو امپورٹ کرنے دیں اور ملز صرف صارفین کی ضرورت کو پورا کریں تو دیکھیں قیمت کیسے کم نہیںہوتی ملک میں چینی کے ذخائر اب بھی کافی ہیں صرف وہ 3 ملین میٹرک ٹن جو غائب کی گئی ہے منظر عام پرلے آئیں سب ٹھیک ہو جائے گا
اب حکومت اور شوگر انڈسٹری کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں ۔وزارت غذائی تحفظ کے مطابق چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو گرام مقررکردی گئی ہے۔وزارت غذائی تحفظ نے بتایاکہ صوبائی حکومتیں فیصلے کی روشنی میں عوام کو سستی چینی کی دستیابی یقینی بنائیں گی۔دوسری جانب کراچی اور پشاور سمیت ملک بھر میں چینی کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ملک میں فی کلو چینی 200 روپے تک پہنچ گئی۔خیال رہے حکومت نے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا جس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا جبکہ سابق نگران وفاقی وزیر اور نواز شریف کے قریبی ساتھی فواد حسن فواد نے چینی درآمد کرنے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ظلم ہے اس کے بعد کسان کی بربادی ہوگی یہ ملیں گنا نہیں اٹھائیں گی اور کسان گندم کی طرح گنے کی قیمت وصول کرنے میں ناکام ہو جائیں گے یہ سب پاکستان کی زراعت اور کسان کے خلاف سازش ہے تا کہ ملک کا یہ طبقہ تباہ ہو جائے اور ملک میں کوئی ان کے علاوہ خوشحال نہ رہے کچھ تو لوگوں پر رحم کر دیں ناجائز زخیرہ اندوزی اور سٹہ مافیا اور ناجائز منافع خوری سے نجات دلا دیں رحم کر یں۔
محمد اکرم چوہدری






