کالمز

کیا ہم ایک بار پھر سیاسی میدان گرم کرنے کا بہانہ تلاش کر رہے ہیں؟؟؟؟؟

تحریر۔۔۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
13 جولائی کو اپنی پریس کانفرنس میں عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ مشہور شخصیات، سیاسی مخالفین اور ریاستی افسران کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے ایک منظم دباؤ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ۔ انہوں نے عمران خان کے قومی پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والے بیانات اور غیر ملکی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویوز کا حوالہ دیا، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان حالیہ حالات اور میڈیا سے باخبر ہیں، جو پی ٹی آئی کے تنہائی کی قید کے دعوے کے برعکس ہے۔ وزیر اطلاعات زیادہ با خبر ہوں گی مگر بات تو سچ ہے مگر ہے رسوائی کی، ہمارے سیاسی اکابرین کسی بھی جماعت سے وابستہ ہوں تو یہی فلم چل رہی ہوتی ہے مر گئے لٹ گئے ہسپتا لوں میں نہیں لے کے جارہے، ملنے نہیں دیا جا رہا گفتگو پر پابندی ہے پلیٹ لیس گر گئے مگر جب بات بدلتی ہے تو رنگ بھی بدل جاتا ہے پی ٹی آئی کے لوگ بھی یہی کر رہے ہیں ان کا خمیر بھی اسی دھرتی سے اٹھا ہے انہوں نے کون سی نئی سائنس پڑھی ہے کل جو کہ رہے تھے وہ آج کہ رہے ہیں جو کل وہ کہ رہے تھے آج آپ لوگ کہ رہے ہیں شکوہ نہ کریں شکایت نہ کریں ہم پاکستانی ایسے ہی ہیں ہمیں کسی پل چین نہ آئے

سرکاری حکام کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین اور ریاستی اداروں پر الزامات، بدزبانی، مظلومیت کے دعوے اور جھوٹ کے ذریعے دباؤ ڈالے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو بیانیہ سازی کی تکنیکوں کا بخوبی علم ہے وہ بطور ثبوت 2023 کا حوالہ دیتے ہیں جب پی ٹی آئی پولیس کی جانب سے اپنے کسی رہنما یا کارکن کی گرفتاری کو ’اغوا‘ کہتی تھی۔ یہ بیانیے کو manipulate (چالاکی سے قابو پانے) کرنے کی کلاسیکی مثال ہے۔
پی ٹی آئی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اقتدار میں آنے سے پہلے اور دورانِ حکومت پی ٹی آئی احتساب کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی رہی، لیکن اقتدار سے محروم ہونے کے بعد اب وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کسی بھی اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے ۔ پی ٹی آئی کے رہنما اور حامی عمران خان کے مقدمات اور قید سے متعلق مسلسل غلط بیانی کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے جسے پی ٹی آئی دنیا کو دکھانا چاہتی ہے۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات قانون کے مطابق درج کیے گئے ہیں اور عمران خان کے وکیلوں کی تاخیری حربوں کے باوجود، ٹرائل عدالتوں نے انہیں بھرپور موقع فراہم کیا۔ دفاع کی ٹیم ان مقدمات کی صداقت کو چیلنج نہ کر سکی بلکہ محض قانونی طریقہ کار کی باریکیوں پر انحصار کرتی رہی۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی براہِ راست مالی فائدہ اٹھانے والوں میں شامل رہے۔ خواہ وہ توشہ خانہ کیس ہو یا 190 ملین پاؤنڈز کا معاملہ، دونوں نے مالی فوائد حاصل کیے۔جن مقدمات میں عمران خان یا بشریٰ بی بی کو سزا ہوئی، ان میں انہوں نے اپیل کا حق استعمال کیا اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کئی مقدمات میں فیصلے کالعدم قرار دئیے گئے یا سزائیں معطل کر دی گئیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ شخص جو اقتدار میں ہوتے ہوئے مخالفین کی جیل میں اے سی اتارنے کا دعویٰ کرتا تھا، آج خود جیل میں ایسی سہولیات سے لطف اندوز ہو رہا ہے جو بی کلاس کے قیدیوں کو بھی حاصل نہیں ہوتیں۔ اسے سات کمروں پر مشتمل ایک کمپلیکس دیا گیا ہے جس کے ساتھ چہل قدمی کے لیے راہداری، ایکسرسائز سائیکل، ٹی وی، اخبار اور کتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔

سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ عمران خان ملکی معاملات سے بخوبی باخبر ہیں اور اپنی پارٹی کو ہدایات دیتے رہتے ہیں۔ ان کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ باقاعدگی سے ان کے خیالات شیئر کرتا ہے۔ قید کے دوران عمران خان کی جانب سے 413 ٹوئٹس کی جا چکی ہیں۔ جنرل انتخابات 2024، ضمنی انتخابات سمبڑیال، اسلام آباد میں 26 نومبر 2024 کا پی ٹی آئی احتجاج، حکومت سے مذاکرات یا 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری جیسے تمام بڑے سیاسی واقعات پر وہ پیغامات جاری کرتے رہے ہیں۔
عمران خان کے بیانات قومی پرنٹ میڈیا میں باقاعدگی سے شہ سرخیاں بنتے ہیں۔ اگست 2024 سے اب تک، عمران خان کے بیانات 45 بار قومی میڈیا میں شہ سرخی بن چکے ہیں۔عمران خان غیر ملکی میڈیا کو بھی انٹرویوز دیتے رہے ہیں، جو کہ ایک سزا یافتہ شخص کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ 2024 سے اب تک انہوں نے کم از کم 10 بار غیر ملکی اداروں جیسے فاکس نیوز، وال اسٹریٹ جرنل، آئی ٹی وی، رائٹرز، دی ٹیلیگراف وغیرہ سے بات چیت کی ہے۔
وہ اپنی پارٹی کی قیادت میں بار بار تبدیلیاں بھی کرتے رہے ہیں، جو کہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پارٹی قیادت کو ان تک لگ بھگ بلا رکاوٹ رسائی حاصل ہے۔ گزشتہ تین مہینوں میں 66 افراد (رہنما، اہل خانہ اور وکلاء ) نے ان سے ملاقات کی ہے۔وہ برطانیہ میں مقیم اپنے دو بیٹوں سے بھی رابطہ کرتے ہیں۔سرکاری ذرائع نے پی ٹی آئی کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی قانونی احتساب کو سیاسی تماشہ بنا کر عوام کے اعتماد کو انصاف کے نظام سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ تحریک انصاف کے خلاف سرکاری بیانیہ ہے عوام جو سرکار کے ساتھ ہیں ایسے سچ مانتے ہیں اور جو ان کے مخالفین ہیں وہ دل میں درست بھی مانتے ہوں تو وہ دور کی کوڑیاں لائیں گے کہ یہ سب جھوٹ لگنے لگے گا سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ علی امیں گنڈا پور کیساتھ جتنی گاڑیاں تھیں 12 سال پہلے جب کے پی کے میں یہ حکومت میں آئے تھے تو یہ سب گاڑیوں پر تھے یا اسی برانڈ کی گاڑیوں میں تھے اگر تو ایسا کے پی کے میں سب کو ایسی ہی ترقی ملی ہے تو ماشاء اللہ مبارک ہو اگر ایسا نہیں ہے تو ان سب کو سوچنا چاہیے کہ عوام کی رائے کیا ہوگی انکے بارے میں اور عوام پورے پاکستان کے ایک جیسے ہیں اور ایک ہی طرح سوچتے ہیں بس حکمران بھول جاتے ہیں کہ یہ عہدے بلآخر ختم ہونے ہیں پھر پہلے عوام اور پھر اللہ میاں سوال تو کر یں گے علی امیں گنڈا پور نے جو زبان فضل الرحمن کے بارے میں استعمال کی کچھ سال پہلے بھی کرتے تھے پھر سب شیر شکر ہو گئے بس عوام یہی دیکھتے ہیں سمجھتے بھی ہیں عوام کو بیوقوف سمجھنا چھوڑ دیں حکمرانوں کو عوام کو جواب دہ ہونا پڑے گا آج نہیں تو کل ورنہ اللہ کی عدالت تو لگے گی حضور ادھر تو کوئی نہیں ہوگا ہم سب کو بچانے کے لیے ملک کی سوچیں 90 روزہ تحریک چلائیں اور عوام کو یقین دلائیں کہ آپ کے کاروبار بند نہیں ہوں گے بچے سکول جا سکیں گے امتحانات وقت پر ہوں گے آپ احتجاج کریں کسی کو کیا اعتراض ہے میری دکان کے سامنے میدان نہ لگائیں توہم راضی ،حضور قبلہ اپنا اپنا کام کریں دوسرے کو کرنے دیں آپ وزیر اعلیٰ ہیں صوبہ چلائیں اکبر خان اور گوہر عمر ایوب کو تحریک چلانے دیں اب وقت کو سمجھیں لوگوں کے مالی حالات اچھے نہیںہیں ان کو تنگ نہ کریں بال بچوں کا رزق کمانے دیں تھوڑا انتظار اور اصلاح احوال فرما لیں، مولانا فضل الرحمن کے بارے میں سوچ لیں وہ بھی اب بہت کچھ نیا کہیں گے پھر آپ لڑیں گے کہ جھوٹ بول رہا ہے یہ تو بتائیں سچ کون بول رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button