چوہدری سرور مکمل خاموش مگر کیوں ؟؟؟؟؟؟
تحریر۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
چوہدری سرور سے میرا کبھی سیاسی تعلق نہیں رہا ہماری فیملی کے بہت سے افراد گلاسگومیں ان کے حلقے میں ان کے ساتھ وابستہ ہیں اس حوالے سے ان سے بہت احترام عزت اور ذاتی تعلق ہے وہ کسی بھی جماعت میں ہوں کوئی بھی عہدہ ان کے پاس ہو یا وہ منہ پر تالا لگائے مکمل سوشل ورک کامقصد لئے آگے بڑھ رہے ہوں مجھے کبھی ان سے دوری کا احساس نہیں ہوا وہ ایک وضع دار اور بہتریں انسان کے روپ میں میرے لیے بہت قیمتی رہے ہیں گفتگو کو آگے بڑھانے سے پہلے ان کے ماضی کی ایک جھلک آپ سب کی نظرہے
چوہدری محمد سرور پاکستانی سیاستدان اور سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ ہیں جو دو بار پنجاب کے گورنر رہ چکے ہیں ان کے کردار کا مختصر جائزہ لیتے ہیں 18 اگست 1952 کو پیدا ہونے والے چوہدری سرور سیاست میں آنے سے پہلے ایک کامیاب بزنس مین تھے وہ 1997 میں برطانوی پارلیمنٹ میں گلاسگو گوون کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلمان رکن پارلیمنٹ بنے۔چوہدری سرور نے پاکستانی سیاست میں کیریئر بنانے کے لیے جولائی 2013 میں اپنی برطانیہ کی شہریت ترک کردی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی اور 15 اگست 2013 کو پنجاب کے گورنر کے عہدے کا حلف اٹھایا (2013-2015) اپنی پہلی مدت کے دوران چوہدری سرور نے مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کی۔ تاہم انہوں نے حکومت کی خارجہ پالیسی سے اختلاف کا حوالہ دیتے ہوئے 29 جنوری 2015 کو استعفیٰ دے دیا۔ چوہدری سرور نے 10 فروری 2015 کو تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی۔ وہ مارچ 2018 میں سینیٹ آف پاکستان کے لیے منتخب ہوئے اور بعد میں 5 ستمبر 2018 کو پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتے ہوئے دوسری بار پنجاب کے گورنر بن گئے بطور گورنرچوہدری سرور نے پنجاب میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی بہبود کے فروغ پر توجہ دی۔ ان کے دور میں صوبے کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات دیکھنے میں آئے چوہدری محمد سرور کے کچھ قابل ذکر عہدوں میں شامل ہیں۔
چوہدری محمد سرور نے برطانوی اور پاکستانی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ایڈووکیٹ فار پیس میں وہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن کے لیے ایک آواز کے وکیل تھے، اور عالمی یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں ان کی کوششوں کو برطانوی پارلیمنٹ میں خصوصی تقریب میں تسلیم کیا گیا۔ چوہدری سرور نے سکاٹش افیئرز سلیکٹ کمیٹی میں خدمات انجام دیں اور 2004 سے چیئرمین رہے۔ سرور نے سرور فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جس کی توجہ کمیونٹی سروس اور عالمی سطح پر اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔
جی ایس ٹی پلس ہو، بزنس کیمونٹی سے مراسم ہوں، پارلیمنٹ کے نمائندوں یورپ کے بزنس سیاست ٹریڈسوشل ورک جہاں بھی ممکن ہواانہوں نے پاکستان کے لیے کام کیا۔ اتوارکو ان کے اعزاز میں فرینڈز فورم نے ایک ظہرانہ دیا اور میری توقع کے مطابق اس ظہرانے میں ان میں سے کوئی نہیں تھا جوہمیشہ ان کے ہر فنکشن میں ضرور ہوتے تھے، ماحول مکمل غیر سیاسی، زبانوں پہ تالے، خاموشی نا گوار گزری تو میں نے چوہدری صاحب کو کہا جس ملک سے آپ آئے ہیںہماری ریاست میں ادھر سے زیادہ جمہوریت اور بولنے کی آزادی یہاںہے اور ان سے بھی جو اپنے آپ کو دنیا کا حکمران سمجھتے ہیں وہ سب تو فلسطین کا جینو سایڈ قتل عام کر رہے ہیں ٹرمپ اور یورپ کی اندھی پست پناہی اور مسلم ریاستوں کی مکمل خاموشی کیا آپ کو اس کا پتہ نہیں ،ادھر جو مرضی بولیں بس الفاظ اور اخلاق کے تقاضوں کا خیال رکھیں تو جو جی چاہے کہیںشتر بے مہار کی آزادی آپ نے 2010سے اب تک دیکھی نہیں بہرحال گفتگوہوئی میرا خیال ہے چوہدری سرور آج کل صحت تعلیم اور صاف پانی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے حلقے میںسوشل ورک کے علاوہ کام کرنے کے لیے تیار نہیں، انہیں ملک کے لیے کام کرنا چاہیے عہدے آتے جاتے رہتے ہیں آپ کا کردارہمیشہ یاد رکھا جاتاہے آپ کو اورسیز پاکستانیوں کو ملک کے مسائل کے حل کے لیے سفارتی تعلقات میں بہتری کے لیے اور ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری کے لیے معاونت کرنی چاہیے یہی ان کیلئے اور ملک کے لیے بہتر ہے۔ چوہدری سرور اپنے بھائی چوہدری رمضان کی موت کے بعد خاصے رنجیدہ اور افسردہ رہتے ہیں اور سچ کہوں تو مایوس بھی لگتے ہیں چوہدری صاحب نشیب فراز حصہ زندگی ہیں اچھا کام کرنے والوں کی بہت ضرورت ہے
چوہدری سرور کو یہ سوچنا ہوگا کہ جس انداز سے وہ ملک کی خدمت کر سکتے ہیں پاکستان کے 99% سیاست دانوں کے پاس قابلیت نہیں ہے نہ انکے پاس یہ تجربہ ہے نہ وسائل اور ذرائع ہیں ان کے پاس گفتگو کا فن عالمی دنیا سے روابط ملک میں تمام طبقات میں قبولیت عوامی سطح پر برداری کی حمایت سیاسی اکابرین سے گہرے روابط یہ سب کسی اور کے پاس کیا ان کی طرح موجود ہیں انہیں سوچنا ہوگا اور طے کرنا ہوگا کہ مایوسی گناہ ہے اس سے بچنا ہو گا اپنا احتساب کرنا ہوگا کہ ماضی میں پہلی گورنر شپ چھوڑنے کا فیصلہ غلط تھا مانناہوگا پھر دوسری گورنر شپ قبول کرنے کا فیصلہ غلط تھا مانناہو گا پھر ق لیگ میں شمولیت اور بغیر کچھ سوچے سمجھے الگ ہوجانا دونوں فیصلے غلط تھے اور اب خاموشی بھی غلط ہے اپنے حلقہ احباب پر نظر ڈالیں کون ان کیلئے مشکلات کا باعث بنا کون ان کیلئے منفی کردار ادا کرتا رہا اور وہ ان کے قریب تر رہے چوہدری صاحب اپنے آپ کو صرف ملک کی خدمت اور اس ملک کے اداروں کو مضبوط بنانے پر کام کریں تجاویز دیںہمت کریں ورکرز کسی بھی سیاسی جماعت کے ہوں ان سے رابطہ کریں ان کی مایوسی دور کریں کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جینو سائیڈ کرنے والوں کیخلاف عالمی آواز بن جائیں ، عہدوں اقتدار طاقت کے بغیر بھی انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے ایدھی کے پاس کون سا اقتدار تھا مدر ٹریسا کے پاس کون سی حکومت تھی بس ہمت چاہئے ارادہ چاہیے ماضی کو بھول کے آگے بڑھیں حوصلہ تو کریں لندن جا کے یا دوبئی بیٹھ کے یہ کام نہیں ہو سکتا اپنے آپ کو دنیا بھر میں مصروف عمل ہونا ہوگا دنیا بھر کے زرائع ابلاغ کور کریں گے فلسطین کشمیر اور سکھوں کے قتل عام کیخلاف رائے عامہ کو اکٹھا کریں اچھے ساتھیوں کو ساتھ رکھیں دنیا بھر میں بہتر پاکستانیوں کو پاکستان کا سفیر بنائیں انکی آواز بنیں دیکھیں رنگ بدلتا ہے آسمان کیسے کیسے، آپ ملک کے لیے اپنا آپ وقف کر دیں انسانیت کے لیے کام کریں ۔آئیں بسم اللہ کریں،چوہدری سرور خوش نصیب ہیں کہ انکی زوجہ محترمہ سماجی شعبے میں متحرک کردار ادا کرتی ہیں سرور فاونڈیشن کو دیکھتی ہیں آپ کیساتھ سیاسی کردار ادا کرتی ہیں۔ایسا عمومی طور پرہمارے ہان نہیںہوتا خواتین نجی زندگی اور گھریلو مصروفیات کی وجہ سے دونوں شعبوں میں فعال کردار ادا کرنے کی خواہش کے باوجود نہیں کر پاتیں آپ کے لیے بہت مواقع ہیں ان پر سنجیدگی سے کام کریں آپ کے لیے کامیابی کے امکانات بہت ہیں بس اپنے کام سے اور مقصد سے جڑے رہیں۔






