یوم عاشورہ کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں
تحریر ۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری
یوم عاشورہ، یعنی محرم الحرام کی دسویں تاریخ، اسلامی تاریخ اور شریعت میں نہایت فضیلت اور اہمیت کا حامل دن ہے۔ اس دن کی فضیلت قرآن و حدیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔
قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ میں چار حرمت والے مہینوں کا ذکر فرمایا ہے، جن میں محرم بھی شامل ہے بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے… ان میں چار حرمت والے ہیں… (سورہ توبہ: 36)ان مہینوں میں نیک اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔
احادیث کی روشنی میں
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے یوم عاشورہ کے روزے کا بہت اہتمام فرمایا اور ارشاد فرمایا:مجھے اللہ سے امید ہے کہ عاشورہ کے دن کا روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ (صحیح مسلم: 1162)جب رسول اللہؐ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ دن حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔آپ ؐ نے فرمایا:ہم موسیٰ کے زیادہ حقدار ہیں، پھر آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔
دیگر تاریخی و دینی واقعات
اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو فرعون سے نجات دی ۔بعض روایات کے مطابق، اس دن دیگر انبیاء پر بھی اللہ کی خاص عنائتیں نازل ہوئیں۔اسی دن نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا عظیم واقعہ بھی پیش آیا، جس نے اس دن کو مزید یادگار بنا دیا۔سید الشہداء حضرت حسینؓ کی کنیت ابوعبداللہ ہے، سن چار ہجری کے ماہ شعبان کی پانچ تاریخ کو پیدا ہوئے، 10 محرم 61 ھ جمعہ کے دن کربلا (عراق) کی سر زمین پر یزید ابن معاویہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے ایک روایت تو یہ ہے کہ سنان ابن انس نخعی نے آپؓ کو شہید کیا جب کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ شمرذی الجوش نے شہید کیا اور آپ کی نعش مبارک اور آپ کے اہل بیت کو میدان کربلا سے عبداللہ ابن زیاد کے پاس خولی ابن یزید اصبحی لے کر آیا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ کربلا کے میدان میں حضرت حسینؓ کے ساتھ آپ کی اولاد، آپ کے بھائیوں اور اہل بیت میں سے 23 مردوں کو شہید کیا گیا شہادت کے دن حضرت حسین کی عمر اٹھاون سال کی تھی۔
اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے بیان کیا ایک دن دوپہر میں میں نے نبی کریم ؐ کو اس طرح دیکھا جیسے کوئی سونے والا کسی کو دیکھتا ہے (یعنی خواب دیکھا) کہ آپؐکے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلودہ ہیں اور آپؐکے ہاتھ میں ایک بوتل ہے جو خون سے بھری ہوئی ہے۔ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان یہ کیا ہے (یعنی حادثہ پیش آیا ہے کہ آپ نہایت پریشان حال اور گرد آلود ہیں اور ایک خون بھری بوتل ہے) آپؐ نے فرمایا : یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے جس کو میں نے آج قتل گاہ حسین میں صبح سے اب تک اس بوتل میں اکٹھا کیا کرتا رہا ہوں، حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ (اس خواب کے بعد میری آنکھ کھل گئی) اور پھر میں نے اس وقت کو یاد رکھا ( جس وقت یہ خواب دیکھا تھا) چنانچہ (جب قتل حسین کی خبر آئی) تو میں نے پایا کہ شہادت حسین کا المیہ (اسی دن اور اسی وقت پیش آیا تھا) جب میں نے مذکورہ خواب دیکھا تھا) ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے دلائل النبوہ میں اور اس دوسری روایت کو احمد نے بھی نقل کیا ہے۔اور حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت حسین (رض) کا سر مبارک ( تن پاک سے جدا کر کے) عبیداللہ بن زیاد کے سامنے لا کر ایک طشت میں رکھا گیا تو وہ بدبخت اپنی چھڑی سے اس سر مبارک کو چھیڑنے لگا (یعنی حضرت حسین (رض) کے تئیں اپنی نفرت و حقارت ظاہر کرنے کے لیے چھڑی کا سرا بار بار ناک وغیرہ پر مارتا رہا) پھر اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ کہا حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے (اس شقی کی یہ حرکت دیکھ کر اور اس کے الفاظ کو سن کر) کہا، اللہ کی قسم یہ مقدس انسان ہے جو اہل بیت میں سے سب سے زیادہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشابہ تھا اس وقت حضرت حسین (رض) کا سر مبارک وسمہ سے رنگا ہوا تھا (بخاری) اور ترمذی کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت انس (رض) نے بیان کیا اس وقت میں ابن زیاد کے پاس موجود تھا میں نے کہا تجھے معلوم بھی ہے، یہ وہ شخص ہے جو رسول اللہؐ سے سب سے زیادہ مشابہ تھا۔ ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے۔
اور طبرانی نے حضرت انس (رض) کے الفاظ یوں نقل کئے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اپنی چھڑی سے جو اس کے ہاتھ میں تھی حضرت حسین (رض) کی آنکھ اور ناک کو کو چنے لگا تو میں نے کہا (ارے بدبخت) اپنی چھڑی ہٹا لے، جن جگہوں کو تو اپنی چھڑی سے کوچ رہا ہے، وہاں میں نے رسول اللہؐ کا منہ رکھا ہوا دیکھا ہے اور براز کی روایت میں حضرت انس (رض) کے الفاظ یوں ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن زیاد کو مخاطب کر کے کہا، جہاں تو اپنی چھڑی سے کوچ رہا ہے وہاں میں نے رسول اللہؐکو سونگھتے دیکھا ہے، میرے یہ کہنے پر ابن زیاد نے اپنی چھڑی ہٹا لی۔
بہرحال عبیداللہ بن زیادہ وہ شخص ہے جو کوفہ میں یزید بن معاویہ کا گورنر تھا اور یزید نے اسی کو اس لشکر کا کماندار بنایا تھا جو حضرت حسین (رض) کو شہید کرنے کے لیے متعین ہوا تھا، اس شخص نے جس بیدردی سے حضرت حسین (رض) اور ان کے رفقاء و اعزاء کو قتل کرایا اور پھر بعد میں حضرت حسین (رض) کے سر مبارک کے ساتھ جس تمسخر و استہزا بلکہ حقارت و تنفر کا سلوک کیا وہ اس کی شقاوت قلبی کا ثبوت ہے چنانچہ خود اس کو قدرت کے انتقام کا اس طرح شکار ہونا پڑا کہ 66 ھ میں مختیار بن عبید کے زمانہ میں بمقام موصل ابراہیم بن مالک ابن الاشتر النخعی کے ہاتھوں اپنے بہت سارے لوگوں کے ساتھ موت کے گھاٹ اترا اور ذخائر میں عمار بن عمیر کی روایت ہے کہ انھوں نے بیان کیا جب میدان جنگ سے ابن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سرتن سے جدا کر کے شہر کی جامع مسجد میں لائے گئے تو اس وقت مسجد کے چبوترہ پر میں بھی موجود تھا، ابن زیاد کا کٹا ہوا سر وہاں رکھا ہوا تھا، اچانک لوگوں نے ایک طرف کو دیکھ کر چلانا شروع کیا وہ آیا وہ آیا، میں نے جو دیکھا تو ایک سانپ تیزی سے ابن زیاد کے سر کی طرف چلا آ رہا تھا اور آنا فانا اس کے نتھنے میں گھس گیا، کچھ دیر وہ اندر رہا پھر وہ باہر نکل کر چلا گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد وہ آیا وہ آیا کا شور پھر بلند ہوا اور وہ سانپ تیزی سے آ کر ابن زیاد کے نتھنے میں گھس گیا اور کچھ دیر رہ کر پھر نکلا اور چلا گیا، یہ عجیب و غریب ماجرا دو یا تین بار پیش آیا۔
’’پھر اس نے اس کے حسن کے بارے میں کچھ کہا ‘‘ اس جملہ کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ ابن زیاد نے حضرت حسین (رض) کا سر مبارک دیکھ کر ان کے حسن اور ان کی خوبصورتی کے بارے میں کوئی عیب جو نہ بات کہی، لیکن ایک مطلب جو ترمذی کی روایت سے ظاہر بھی ہوتا ہے یہ ہوسکتا ہے کہ ابن زیاد نے اس وقت حضرت حسین (رض) کے حسن و جمال کے بارے میں تعریف و تحسین کے اس طرح مبالغہ آمیز الفاظ استعمال کئے جسے کوئی مذاق اڑانے والا کیا کرتا ہے وہ الفاظ ظاہر تو تعریف کے تھے مگر حقیقت میں اس خوشی کے اظہار کے لیے جو اس بدبخت کو حضرت حسین (رض) کے قتل سے حاصل ہوئی تھی تمسخر و استہزاء کے طور پر تھے۔
بشکریہ ۔۔۔۔۔محمد اکرم چوہدری






