اسرائیل ایران جنگ ، کیا کھویا کیا پایا؟
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹی ایم اعوان
باالآخر بارہ دن کے بعد اسرائیل اور ایران کے درمیان سیز فائر ہوگیا۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ محض ایک علاقائی جھڑپ نہیں، بلکہ ایک مکمل اور سوچی سمجھی عالمی اسٹرٹیجی کا حصہ تھیاور یہ جنگ حقیقی تھی۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ اسرائیل اور امریکا کا اصل ہدف ایران کا جوہری پروگرام نہیں، بلکہ آیت اللہ رجیم تھا۔ جوہری تنصیبات محض ایک بہانہ تھیں۔ مقصد ایران میں وہی کچھ دہرانا تھا جو لیبیا، عراق یا شام میں ہو چکا: رجیم چینج!تاہم اس بار حساب غلط نکلا۔ بیرونی حملوں سے کسی بھی ملک میں حکومت بدلنے کا خواب اسی وقت شرمند تعبیر ہو سکتا ہے جب اس ملک کی قابل ذکر آبادی اپنے حکمرانوں کے خلاف ہو۔ اسرائیل سے حالیہ کشیدگی کے دوران ایران میں ایسا کوئی منظر نظر نہیں آیا۔ ایک اہم فرق یہ ہے کہ ایران میں ایک مسلک کی واضح اکثریت ہے، جس نے لیبیا، شام اور یمن جیسے فرقہ وارانہ انتشار کو جنم ہی نہیں لینے دیا۔ یہاں شیعہ مکتب فکر متحد ہے،یہی وہ پہلو تھا جسے اسرائیل اور امریکا نے نظرانداز کر کے سب سے بڑی اسٹریٹیجک غلطی کی۔
دوسری غلطی رضا شاہ پہلوی پر بھروسہ تھاوہ رضا شاہ جو ملک سے باہر بیٹھ کر محض بیانات دیتا رہا، مگر ایران کے اندر اس کے لیے کوئی مثر تحریک کھڑی نہ ہو سکی۔ اسرائیل اور امریکا کا منصوبہ بظاہر بہت مضبوط تھا۔ جنگ کے آغاز سے قبل شام کا محاذ خاموش کرا دیا گیا تاکہ حزب اللہ اور حماس جیسی حامی قوتیں ایران کی مدد نہ کر سکیں۔ جنگ کے پہلے ہی روز ایران کی اعلی عسکری قیادت کو نشانہ بنا کر فوج اور انٹیلیجنس کا کمر توڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہی حکمت عملی تھی جس سے شام میں اسد رجیم کا ڈھانچہ چند دنوں میں زمین بوس ہو گیا تھا۔مگر ایران میں نتیجہ مختلف نکلا۔ وجہ؟ ایران میں حملہ آور قوتوں کو آیت اللہ رجیم کے خلاف کوئی قابل ذکر داخلی حمایت نہ مل سکی۔ جن جدت پسندوں اور اپوزیشن پر مغرب نے تکیہ کیا، وہ عملی طور پر غیر مثر ثابت ہوئے۔ دوسری اہم رکاوٹ خود آیت اللہ خامنہ ای کا وجود ہے، جنہیں نہ صرف ایران بلکہ عالمی شیعہ حلقوں میں مرجع تقلید کا درجہ حاصل ہے۔
اسی روحانی اثر کی وجہ سے اسرائیل و امریکا کو یہ جرات نہ ہو سکی کہ انھیں براہ راست نشانہ بنائیں، کیونکہ ایسی صورت میں نہ صرف ایران بلکہ عراق، لبنان، خلیج اور یورپ تک شیعہ ردعمل کی ایک نئی لہر اٹھ سکتی تھی، جو مغربی مفادات کے لیے زلزلہ ثابت ہو سکتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو جنگ کو طویل کرنے میں دشواری کا سامنا ہوا۔ جب تمام حربے ناکام ہوئے تو روایتی فیس سیونگ حکمتِ عملی اپنائی گئی۔ جوہری تنصیبات پر محدود حملے کر کے ایک نام نہاد کامیابی عوام کے سامنے پیش کر دی گئی تاکہ کم از کم سیاسی طور پر کچھ تحفظ رہ جائے، خاص طور پر نیتن یاہو کے لیے، جو اندرونِ ملک شدید دبا کا شکار تھے۔اسی لیے امریکی صدر نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد الٹا مذاکرات کی پیشکش شروع کردی۔ دوسری طرف ایران بھی عوامی جذبات کی تسکین اور قومی خودداری کی علامت کے طور پر خلیج میں چند امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے پر مجبور ہوا۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے ان حملوں سے قبل قطر کو مطلع کر دیا تھا، اور قطری حکومت نے امریکی اڈے خالی کروا لیے تھے۔
بالکل اسی طرح ایران نے بھی جوہری تنصیبات حملے سے قبل خالی کرا لی تھیں۔یوں بظاہر اطراف نے جنگ کے اس باب کو عزت بچا کر بند کرنے کا راستہ چن لیا گیا ۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا کا ایران میں رجیم چینج کا منصوبہ، کم از کم اس مرحلے پر، مکمل ناکامی سے دوچار ہوا۔ ایران کا جوابی حملہ اور امریکا کا محتاط ردعمل، دونوں ایک "بیلنسنگ ایکٹ” اور سیاسی عزت بچانے کی چال محسوس ہوتے ہیں۔ اس جنگ سے یہی سبق حاصل ہوتا ہے کہ کسی ریاست کی اصل طاقت اس کے اندرونی اتحاد، مذہبی و فکری یکجہتی، نظریاتی قیادت اور علاقائی اسٹریٹیجی میں پوشیدہ ہوتی ہے!!
ٹی ایم اعوان






